Sunan Abi Dawood Hadith 4047 (سنن أبي داود)

[4047] إسنادہ ضعیف

علي بن زید ضعیف

وأصلہ صحیح راجع مسند الحمیدي بتحقیقي (1213)

انوار الصحیفہ ص 144

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ مَلِكَ الرُّومِ أَہْدَی إِلَی النَّبِيِّ ﷺ مُسْتُقَةً مِنْ سُنْدُسٍ فَلَبِسَہَا فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی يَدَيْہِ تَذَبْذَبَانِ ثُمَّ بَعَثَ بِہَا إِلَی جَعْفَرٍ فَلَبِسَہَا ثُمَّ جَاءَہُ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ إِنِّي لَمْ أُعْطِكَہَا لِتَلْبَسَہَا قَالَ فَمَا أَصْنَعُ بِہَا قَالَ أَرْسِلْ بِہَا إِلَی أَخِيكَ النَّجَاشِيِّ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہآستینوں کو دیکھ رہا ہوں۔پھر آپ ﷺ نے اسے سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کے ہاں بھیج دیا۔انہوں نے اسے پہنا اور آپ کی خدمت میں آئے۔تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’میں نے یہ تمہیں تمہارے پہننے کے لیے نہیں دیا ہے‘‘ انہوں نے کہا: تو پھر میں اس کا کیا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’اسے اپنے بھائی نجاشی کے پاس بھیج دو۔‘‘ (یعنی شاہ حبشہ کے ہاں بھیج دو)۔