Sunan Abi Dawood Hadith 4158 (سنن أبي داود)
[4158]صحیح
أخرجہ الترمذي (2806 وسندہ صحیح) مشکوۃ المصابیح (4501)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ الْفَزَارِيُّ عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو ہُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْہِ السَّلَام فَقَالَ لِي أَتَيْتُكَ الْبَارِحَةَ فَلَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَكُونَ دَخَلْتُ إِلَّا أَنَّہُ كَانَ عَلَی الْبَابِ تَمَاثِيلُ وَكَانَ فِي الْبَيْتِ قِرَامُ سِتْرٍ فِيہِ تَمَاثِيلُ وَكَانَ فِي الْبَيْتِ كَلْبٌ فَمُرْ بِرَأْسِ التِّمْثَالِ الَّذِي فِي الْبَيْتِ يُقْطَعُ فَيَصِيرُ كَہَيْئَةِ الشَّجَرَةِ وَمُرْ بِالسِّتْرِ فَلْيُقْطَعْ فَلْيُجْعَلْ مِنْہُ وِسَادَتَيْنِ مَنْبُوذَتَيْنِ تُوطَآَنِ وَمُرْ بِالْكَلْبِ فَلْيُخْرَجْ فَفَعَلَ رَسُولُ اللہِ ﷺ وَإِذَا الْكَلْبُ لِحَسَنٍ أَوْ حُسَيْنٍ كَانَ تَحْتَ نَضَدٍ لَہُمْ فَأُمِرَ بِہِ فَأُخْرِجَ قَالَ أَبُو دَاوُد وَالنَّضَدُ شَيْءٌ تُوضَعُ عَلَيْہِ الثِّيَابُ شَبَہُ السَّرِيرِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھے کہا: میں گزشتہ رات آپ کے ہاں آیا تھا مگر اندر آنے سے میرے لیے یہ امر مانع تھا کہ (آپ کے گھر کے) دروازے پر تصویریں تھیں اور گھر میں تصویروں والا پردہ تھا اور کتا بھی تھا،چنانچہ آپ گھر میں تصویر کے متعلق حکم دیجئیے کہ اس کا سر کاٹ دیا جائے اور درخت کی مانند ہو جائے اور پردے کے متعلق حکم فرمائیں کہ اسے کاٹ کر دو تکیے بنا لیے جائیں جو پھینکے جائیں اور پاؤں سے روندے جائیں اور کتے کے متعلق فرمائیے کہ اسے نکال باہر کیا جائے۔‘‘ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ایسے ہی کیا۔یہ حسن یا حسین رضی اللہ عنہما کا کتا تھا جو ان کے تخت کے نیچے تھا ‘ تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا اور اسے نکال باہر کیا گیا۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ((النضد)) سے مراد وہ شے ہے جس پر کپڑے رکھے جاتے ہیں اور وہ چارپائی کے مشابہ ہوتی ہے۔