Sunan Abi Dawood Hadith 4160 (سنن أبي داود)
[4160] إسنادہ ضعیف
سعید بن إیاس الجریري اختلط (انظر الکواکب النیرات ص 178 الرقم: 24) ولم یثبت تحدیثہ بہ قبل اختلاطہ
وحدیث النسائي (185/8 ح 5241) یغني عنہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ،حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ ہَارُونَ،أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ بُرَيْدَةَ،أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ رَحَلَ إِلَی فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ وَہُوَ بِمِصْرَ،فَقَدِمَ عَلَيْہِ،فَقَالَ: أَمَا إِنِّي لَمْ آتِكَ زَائِرًا،وَلَكِنِّي سَمِعْتُ أَنَا وَأَنْتَ حَدِيثًا مِنْ رَسُولِ اللہِ ﷺ،رَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ عِنْدَكَ مِنْہُ عِلْمٌ؟ قَالَ: وَمَا ہُوَ؟ قَالَ كَذَا وَكَذَا،قَالَ: فَمَا لِي أَرَاكَ شَعِثًا وَأَنْتَ أَمِيرُ الْأَرْضِ؟! قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ كَانَ يَنْہَانَا عَنْ كَثِيرٍ مِنَ الْإِرْفَاہِ،قَالَ: فَمَا لِي لَا أَرَی عَلَيْكَ حِذَاءً؟! قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَأْمُرُنَا أَنْ نَحْتَفِيَ أَحْيَانًا.
سیدنا عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت کہ نبی کریم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک آدمی سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے ہاں گیا جبکہ وہ مصر میں (امیر) تھے۔وہاں پہنچے تو ان سے کہا: میں تمہیں بلاوجہ ملنے نہیں آیا ہوں بلکہ میں نے اور تم نے رسول اللہ ﷺ سے ایک حدیث سنی تھی ‘ مجھے امید ہے کہ وہ تمہیں خوب یاد ہو گی۔انہوں نے کہا: کون سی حدیث؟ فرمایا فلاں فلاں! پھر کہا: اور کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں پراگندہ سر دیکھ رہا ہوں حالانکہ تم اس علاقے کے امیر ہو؟ سیدنا فضالہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تحقیق رسول اللہ ﷺ ہمیں بہت زیادہ اسباب عیش جمع کرنے اور بہت زیادہ زیب و زینت سے منع فرمایا کرتے تھے۔پھر پوچھا کیا وجہ ہے کہ تمہارے جوتے نہیں ہیں؟ کہا کہ نبی کریم ﷺ ہمیں حکم فرمایا کرتے تھے کہ کبھی کبھی ننگے پاؤں بھی رہا کریں۔