Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4169 (سنن أبي داود)

[4169]صحیح

صحیح بخاری (5931) صحیح مسلم (2125)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَی وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْمَعْنَی،قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ،عَنْ مَنْصُورٍ،عَنْ إِبْرَاہِيمَ،عَنْ عَلْقَمَةَ،عَنْ عَبْدِ اللہِ،قَالَ: لَعَنَ اللہُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ: قَالَ مُحَمَّدٌ: وَالْوَاصِلَاتِ،و قَالَ عُثْمَانُ: وَالْمُتَنَمِّصَاتِ،ثُمَّ اتَّفَقَا وَالْمُتَفَلِّجَاتِ،لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ،فَبَلَغَ ذَلِكَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي أَسَدٍ،يُقَالُ لَہَا: أُمُّ يَعْقُوبَ،زَادَ عُثْمَانُ كَانَتْ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ،ثُمَّ اتَّفَقَا فَأَتَتْہُ،فَقَالَتْ: بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ لَعَنْتَ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ؟! قَالَ مُحَمَّدٌ وَالْوَاصِلَاتِ،و قَالَ عُثْمَانُ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ،ثُمَّ اتَّفَقَا وَالْمُتَفَلِّجَاتِ قَالَ عُثْمَانُ لِلْحُسْنِ: الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللہِ تَعَالَی،فَقَالَ: وَمَا لِي لَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللہِ ﷺ،وَہُوَ فِي كِتَابِ اللہِ تَعَالَی؟! قَالَتْ: لَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ لَوْحَيِ الْمُصْحَفِ! فَمَا وَجَدْتُہُ،فَقَالَ: وَاللہِ لَئِنْ كُنْتِ قَرَأْتِيہِ لَقَدْ وَجَدْتِيہِ،ثُمَّ قَرَأَ: وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ وَمَا نَہَاكُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوا[الحشر: 7]،قَالَتْ: إِنِّي أَرَی بَعْضَ ہَذَا عَلَی امْرَأَتِكَ! قَالَ: فَادْخُلِي فَانْظُرِي،فَدَخَلَتْ،ثُمَّ خَرَجَتْ،فَقَالَ: مَا رَأَيْتِ؟ وقَالَ عُثْمَانُ: فَقَالَتْ: مَا رَأَيْتُ؟ فَقَالَ: لَوْ كَانَ ذَلِكَ مَا كَانَتْ مَعَنَا.

(امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے بواسطہ محمد بن عیسیٰ اور عثمان بن ابی شیبہ روایت کیا) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ’’لعنت کی ہے اللہ نے ان عورتوں پر جو جسم گودیں اور گدوائیں۔‘‘ محمد بن عیسیٰ نے کہا: اور جو بال جوڑ کر لمبے کریں۔عثمان نے کہا: اور جو چہرے کے بال اکھیڑیں،پھر دونوں شیخ روایت میں متفق ہیں۔اور جو حسن کی خاطر دانتوں میں خلا کروائیں ‘ اللہ کی خلقت کو تبدیل کریں۔یہ بات بنو اسد کی ایک عورت کو پہنچی جسے ام یعقوب کہا جاتا تھا۔عثمان نے یہ اضافہ بیان کیا اور اس نے پورا قرآن پڑھ رکھا تھا۔پھر دونوں شیخ روایت میں متفق ہیں،وہ خاتون سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہا: مجھے آپ سے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ نے ان عورتوں پر لعنت کی ہے جو جسم گودیں اور گدوائیں۔محمد نے کہا: اور جو بال جوڑ کر لمبے کریں۔اور عثمان نے کہا: اور جو چہرے کے بال اکھیڑیں۔پھر دونوں روایت میں متفق ہیں۔اور جو دانتوں میں خلا کروائیں۔عثمان نے کہا: زینت کی خاطر ‘ اللہ کی خلقت کو بدلنے والیاں ہیں۔تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے کیا ہوا کہ میں ان پر لعنت نہ کروں جن پر رسول اللہ ﷺ نے لعنت کی ہے اور یہ اللہ کی کتاب میں بھی وارد ہے۔وہ بولی تحقیق میں پورا قرآن جو دو گتوں کے درمیان میں ہے پڑھا ہے مجھے تو اس میں یہ حکم نہیں ملا ہے ‘ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! اگر تو نے پڑھا ہوتا تو یقیناً پا لیتی۔پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی ((وما آتاکم الرسول فخذوہ وما نہاکم عنہ فانتہوا)) ’’اور رسول جو کچھ تمہیں دے دیں وہ لے لو اور جس سے روک دیں اس سے رک جاؤ۔‘‘ عورت نے کہا: میں ان میں سے کئی چیزیں تمہارے بیوی پر بھی دیکھتی ہوں۔انہوں نے کہا: اندر جاؤ اور دیکھ لو۔چنانچہ وہ اندر گئی اور پھر باہر آ گئی۔انہوں نے پوچھا کیا دیکھا ہے؟ عثمان نے کہا،عورت نے کہا: میں نے کچھ نہیں دیکھا ‘ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر یہ ہوتا تو ہمارے ساتھ نہ ہوتی۔