Sunan Abi Dawood Hadith 4176 (سنن أبي داود)
[4176] إسنادہ ضعیف
انظر الحدیث السابق (225) مختصرًا والحدیث الآتی (4601)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ،حَدَّثَنَا حَمَّادٌ،أَخْبَرَنَا عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ،عَنْ يَحْيَی بْنِ يَعْمَرَ،عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ،قَالَ: قَدِمْتُ عَلَی أَہْلِي لَيْلًا،وَقَدْ تَشَقَّقَتْ يَدَايَ،فَخَلَّقُونِي بِزَعْفَرَانٍ،فَغَدَوْتُ عَلَی النَّبِيِّ ﷺ،فَسَلَّمْتُ عَلَيْہِ،فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ،وَلَمْ يُرَحِّبْ بِي،وَقَالَ: اذْہَبْ فَاغْسِلْ ہَذَا عَنْكَ،فَذَہَبْتُ فَغَسَلْتُہُ،ثُمَّ جِئْتُ،وَقَدْ بَقِيَ عَلَيَّ مِنْہُ رَدْعٌ،فَسَلَّمْتُ،فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ،وَلَمْ يُرَحِّبْ بِي،وَقَالَ: اذْہَبْ فَاغْسِلْ ہَذَا عَنْكَ،فَذَہَبْتُ فَغَسَلْتُہُ،ثُمَّ جِئْتُ،فَسَلَّمْتُ عَلَيْہِ،فَرَدَّ عَلَيَّ،وَرَحَّبَ بِي،وَقَالَ: إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَحْضُرُ جَنَازَةَ الْكَافِرِ بِخَيْرٍ،وَلَا الْمُتَضَمِّخَ بِالزَّعْفَرَانِ،وَلَا الْجُنُبَ. قَالَ: وَرَخَّصَ لِلْجُنُبِ إِذَا نَامَ،أَوْ أَكَلَ،أَوْ شَرِبَ, أَنْ يَتَوَضَّأَ.
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں (سفر سے واپس آیا اور) رات کو اپنے گھر والوں کے ہاں پہنچا جب کہ میرے ہاتھ پھٹ چکے تھے ‘ تو انہوں نے مجھے زعفران لگا دی۔میں صبح کے وقت نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام عرض کیا تو آپ ﷺ نے مجھے جواب دیا نہ خوش آمدید کہا: بلکہ فرمایا ’’جاؤ اور اسے اپنے آپ سے دھو کر آؤ۔‘‘ چنانچہ میں گیا اور اسے دھو ڈالا اور آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ اس کا کچھ اثر اور داغ مجھ پر باقی رہ گیا تھا۔میں نے سلام پیش کیا تو آپ نے مجھے جواب نہ دیا،نہ خوش آمدید کہا: اور فرمایا ’’جاؤ اور اسے اپنے آپ سے دھو کر آؤ۔‘‘ چنانچہ میں گیا اور اسے (دوبارہ) دھو کر حاضر خدمت ہوا اور سلام کہا: تو آپ نے مجھے جواب دیا اور خوش آمدید بھی کہا اور فرمایا ’’بالاشبہ فرشتے کافر کے جنازے پر خیر کے ساتھ حاضر نہیں ہوتے اور نہ ایسے آدمی کے پاس آتے ہیں جس نے زعفران لگائی ہو اور نہ جنبی کے پاس آتے ہیں۔‘‘ البتہ جنبی کے لیے رخصت دی کہ جب وہ سونا یا کھانا پینا چاہے تو وضو کر لے۔