Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4591 (سنن أبي داود)

[4591]صحیح

انظر الحدیث السابق (4540)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

قَالَ أَبُو دَاوُد حُدِّثْتُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ كَثِيرٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ مَنْ قَتَلَ فِي عِمِّيَّا أَوْ رِمِّيًّا يَكُونُ بَيْنَہُمْ بِحَجَرٍ أَوْ بِسَوْطٍ فَعَقْلُہُ عَقْلُ خَطَإٍ وَمَنْ قَتَلَ عَمْدًا فَقَوَدُ يَدَيْہِ فَمَنْ حَالَ بَيْنَہُ وَبَيْنَہُ فَعَلَيْہِ لَعْنَةُ اللہِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’جو شخص کسی بلوے میں مارا جائے (اور قاتل دیکھا نہ گیا ہو) کہ ان کی آپس میں سنگباری ہوئی ہو یا سانٹے ڈنڈے بازی تو اس کی دیت قتل خطا والی ہو گی۔اور جو عمداً جان بوجھ کر قتل کیا گیا ہو تو اس میں قاتل کی جان سے قصاص ہے اور جو کوئی اس (قصاص لینے) میں آڑے آئے تو اس پر اللہ کی،فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔