Sunan Abi Dawood Hadith 5225 (سنن أبي داود)
[5225] إسنادہ ضعیف
أم أبان لم أجد من وثقھا فھي: مجہولۃ کما فی التحریر(8700) وللہیثمي کلام مشوش فی المجمع (390/9)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَی بْنُ الطَّبَّاعِ حَدَّثَنَا مَطَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْنَقُ حَدَّثَتْنِي أُمُّ أَبَانَ بِنْتُ الْوَازِعِ بْنِ زَارِعٍ عَنْ جِدِّہَا زَارِعٍ وَكَانَ فِي وَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ قَالَ لَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَجَعَلْنَا نَتَبَادَرُ مِنْ رَوَاحِلِنَا فَنُقَبِّلُ يَدَ النَّبِيِّ ﷺ وَرِجْلَہُ قَالَ وَانْتَظَرَ الْمُنْذِرُ الْأَشَجُّ حَتَّی أَتَی عَيْبَتَہُ فَلَبِسَ ثَوْبَيْہِ ثُمَّ أَتَی النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَ لَہُ إِنَّ فِيكَ خَلَّتَيْنِ يُحِبُّہُمَا اللہُ الْحِلْمُ وَالْأَنَاةُ قَالَ يَا رَسُولَ اللہِ أَنَا أَتَخَلَّقُ بِہِمَا أَمْ اللہُ جَبَلَنِي عَلَيْہِمَا قَالَ بَلْ اللہُ جَبَلَكَ عَلَيْہِمَا قَالَ الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِي جَبَلَنِي عَلَی خَلَّتَيْنِ يُحِبُّہُمَا اللہُ وَرَسُولُہُ
ام ابان بنت وازع بن زارع اپنے دادا زارع سے روایت کرتی ہیں اور یہ وفد عبدالقیس میں شریک تھے۔انہوں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! کیا میں ان باتوں کا تکلف سے اظہار کرتا ہوں،یا اللہ عزوجل نے مجھے ان پر پیدا کیا ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’بلکہ اللہ نے تمہیں ان پر پیدا فرمایا ہے۔‘‘ تو اس نے کہا: حمد اس اللہ کی جس نے مجھے ایسی عادتوں پر پیدا فرمایا ہے جنہیں اللہ اور اس کا رسول پسند فرماتے ہیں۔