Sunan Abi Dawood Hadith 5227 (سنن أبي داود)
[5227] إسنادہ ضعیف
قتادۃ لم یسمع من عمران بن حصین رضي اللہ عنہ (انظر تحفۃ الأشراف 186/8)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ أَوْ غَيْرِہِ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ قَالَ كُنَّا نَقُولُ فِي الْجَاہِلِيَّةِ أَنْعَمَ اللہُ بِكَ عَيْنًا وَأَنْعِمْ صَبَاحًا فَلَمَّا كَانَ الْإِسْلَامُ نُہِينَا عَنْ ذَلِكَ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ مَعْمَرٌ يُكْرَہُ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ أَنْعَمَ اللہُ بِكَ عَيْنًا وَلَا بَأْسَ أَنْ يَقُولَ أَنْعَمَ اللہُ عَيْنَكَ
جناب قتادہ رحمہ اللہ یا کسی دوسرے سے روایت ہے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم جاہلیت میں (ایک دوسرے کو) یوں کہا کرتے تھے: ((أنعم اللہ بک عینا)) ’’اللہ تمہاری آنکھیں ٹھنڈی رکھے۔یا تمہاری وجہ سے تمہارے محبوب کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں۔‘‘ اور ((أنعم صباحا)) ’’صبح بخیر۔‘‘ پھر جب اسلام آ گیا تو ہمیں اس سے روک دیا گیا۔عبدالرزاق نے بیان کیا کہ معمر نے کہا: ((أنعم اللہ بک عینا)) کہنا مکروہ ہے۔لیکن اگر ((أنعم اللہ عینک)) کہے تو کوئی حرج نہیں۔