Sunan Abi Dawood Hadith 5256 (سنن أبي داود)
[5256] إسنادہ ضعیف
المخبر مجھول
والحدیث الآتي (الأصل: 5257) یغني عنہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَی قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّہُ انْطَلَقَ ہُوَ وَصَاحِبٌ لَہُ إِلَی أَبِي سَعِيدٍ يَعُودَانِہِ فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِہِ فَلَقِيَنَا صَاحِبٌ لَنَا وَہُوَ يُرِيدُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْہِ فَأَقْبَلْنَا نَحْنُ فَجَلَسْنَا فِي الْمَسْجِدِ فَجَاءَ فَأَخْبَرَنَا أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِنَّ الْہَوَامَّ مِنْ الْجِنِّ فَمَنْ رَأَی فِي بَيْتِہِ شَيْئًا فَلْيُحَرِّجْ عَلَيْہِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَإِنْ عَادَ فَلْيَقْتُلْہُ فَإِنَّہُ شَيْطَانٌ
جناب محمد بن ابو یحییٰ روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد نے بیان کیا کہ وہ اور ان کا ایک ساتھی سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے گئے۔پھر ہم ان کے ہاں سے نکلے تو ہمیں ہمارا ایک ساتھی ملا جو سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کے ہاں جا رہا تھا۔چنانچہ ہم آ کر مسجد میں بیٹھ گئے تو ہمارا وہ ساتھی بھی آ گیا۔اس نے بتایا کہ اس نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا ہے،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے ’’بلاشبہ کئی سانپ جن ہوتے ہیں۔چنانچہ جو کوئی اپنے گھر میں کچھ دیکھے تو چاہیئے کہ اسے تین بار متنبہ کرے،اگر وہ پھر نظر آئے تو مار ڈالے۔بلاشبہ وہ شیطان ہے۔“