Sunan Abi Dawood Hadith 5257 (سنن أبي داود)
[5257]صحیح
صحیح مسلم (2236)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْہَبٍ الرَّمْلِيُّ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ صَيْفِيٍّ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَی الْأَنْصَارِ عَنْ أَبِي السَّائِبِ قَالَ أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدُہُ سَمِعْتُ تَحْتَ سَرِيرِہِ تَحْرِيكَ شَيْءٍ فَنَظَرْتُ فَإِذَا حَيَّةٌ فَقُمْتُ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ مَا لَكَ قُلْتُ حَيَّةٌ ہَاہُنَا قَالَ فَتُرِيدُ مَاذَا قُلْتُ أَقْتُلُہَا فَأَشَارَ إِلَی بَيْتٍ فِي دَارِہِ تِلْقَاءَ بَيْتِہِ فَقَالَ إِنَّ ابْنَ عَمٍّ لِي كَانَ فِي ہَذَا الْبَيْتِ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْأَحْزَابِ اسْتَأْذَنَ إِلَی أَہْلِہِ وَكَانَ حَدِيثَ عَہْدٍ بِعُرْسٍ فَأَذِنَ لَہُ رَسُولُ اللہِ ﷺ وَأَمَرَہُ أَنْ يَذْہَبَ بِسِلَاحِہِ فَأَتَی دَارَہُ فَوَجَدَ امْرَأَتَہُ قَائِمَةً عَلَی بَابِ الْبَيْتِ فَأَشَارَ إِلَيْہَا بِالرُّمْحِ فَقَالَتْ لَا تَعْجَلْ حَتَّی تَنْظُرَ مَا أَخْرَجَنِي فَدَخَلَ الْبَيْتَ فَإِذَا حَيَّةٌ مُنْكَرَةٌ فَطَعَنَہَا بِالرُّمْحِ ثُمَّ خَرَجَ بِہَا فِي الرُّمْحِ تَرْتَكِضُ قَالَ فَلَا أَدْرِي أَيُّہُمَا كَانَ أَسْرَعَ مَوْتًا الرَّجُلُ أَوْ الْحَيَّةُ فَأَتَی قَوْمُہُ رَسُولَ اللہِ ﷺ فَقَالُوا ادْعُ اللہَ أَنْ يَرُدَّ صَاحِبَنَا فَقَالَ اسْتَغْفِرُوا لِصَاحِبِكُمْ ثُمَّ قَالَ إِنَّ نَفَرًا مِنْ الْجِنِّ أَسْلَمُوا بِالْمَدِينَةِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ أَحَدًا مِنْہُمْ فَحَذِّرُوہُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ إِنْ بَدَا لَكُمْ بَعْدُ أَنْ تَقْتُلُوہُ فَاقْتُلُوہُ بَعْدَ الثَّلَاثِ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ بِہَذَا الْحَدِيثِ مُخْتَصَرًا قَالَ فَلْيُؤْذِنْہُ ثَلَاثًا فَإِنْ بَدَا لَہُ بَعْدُ فَلْيَقْتُلْہُ فَإِنَّہُ شَيْطَانٌ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْہَمْدَانِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي مَالِكٌ عَنْ صَيْفِيٍّ مَوْلَی ابْنِ أَفْلَحَ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو السَّائِبِ مَوْلَی ہِشَامِ بْنِ زُہْرَةَ أَنَّہُ دَخَلَ عَلَی أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَذَكَرَ نَحْوَہُ وَأَتَمَّ مِنْہُ قَالَ فَآذِنُوہُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَإِنْ بَدَا لَكُمْ بَعْدَ ذَلِكَ فَاقْتُلُوہُ فَإِنَّمَا ہُوَ شَيْطَانٌ
سیدنا ابوسائب بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا۔میں ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ میں نے ان کی چارپائی کے نیچے کسی چیز کی سرسراہٹ محسوس کی،میں نے دیکھا تو وہ سانپ تھا۔چنانچہ میں اٹھ کر کھڑا ہو گیا،تو سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا ہے؟ میں نے کہا کہ یہاں سانپ ہے۔انہوں نے کہا: تو کیا چاہتے ہو؟ میں نے کہا کہ اسے مارتا ہوں۔تو انہوں نے اپنے گھر کے سامنے ایک مکان کی طرف اشارہ کیا اور کہا: بیشک میرا چچا زاد اسی مکان میں رہتا تھا۔جنگ احزاب کے دن اس نے اپنے گھر آنے کی اجازت مانگی جب کہ اس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی۔رسول اللہ ﷺ نے اس کو اجازت دے دی اور فرمایا کہ مسلح ہو کر جانا۔وہ اپنے گھر آیا تو دیکھا کہ اس کی بیوی گھر کے دروازے پر کھڑی ہے۔چنانچہ اس نے نیزے سے اس کی طرف اشارہ کیا (مارنے لگا) تو اس نے کہا: جلدی مت کرو۔پہلے دیکھ لو کہ مجھے کس چیز نے باہر نکالا ہے؟ (دیکھ لو کہ میں باہر کیوں نکلی ہوں؟) چنانچہ وہ گھر کے اندر گیا تو دیکھا کہ وہاں ایک بدصورت سانپ تھا۔چنانچہ اس نے اپنا نیزہ اسی میں چبھو دیا اور اسی طرح چبھوئے ہوئے باہر لے آیا اور سانپ نیزے کے ساتھ تڑپ رہا تھا۔انہوں نے کہا،مجھے نہیں معلوم کہ ان میں سے پہلے کون مرا،وہ آدمی یا سانپ؟ چنانچہ اس کی قوم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئی اور انہوں نے کہا: دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اس آدمی کو واپس (زندہ) کر دے۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’اپنے ساتھی کے لیے بخشش کی دعا کرو۔‘‘ پھر فرمایا ’’مدینہ میں کچھ جن مسلمان ہوئے ہیں،تو جب تم ان میں سے کسی کو دیکھو تو اسے تین بار خبردار کرو۔اس کے بعد اگر قتل کرنے کا خیال ہو تو تیسری بار کے بعد قتل کرو۔‘‘