Sunan Abi Dawood Hadith 5268 (سنن أبي داود)

[5268]حسن

انظر الحدیث السابق (2675)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَقَ الْفَزَارِيُّ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ ابْنِ سَعْدٍ قَالَ أَبُو دَاوُد وَہُوَ الْحَسَنُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللہِ عَنْ أَبِيہِ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ فِي سَفَرٍ فَانْطَلَقَ لِحَاجَتِہِ فَرَأَيْنَا حُمَّرَةً مَعَہَا فَرْخَانِ فَأَخَذْنَا فَرْخَيْہَا فَجَاءَتْ الْحُمَرَةُ فَجَعَلَتْ تُفَرِّشُ فَجَاءَ النَّبِيُّ ﷺ فَقَالَ مَنْ فَجَعَ ہَذِہِ بِوَلَدِہَا رُدُّوا وَلَدَہَا إِلَيْہَا وَرَأَی قَرْيَةَ نَمْلٍ قَدْ حَرَّقْنَاہَا فَقَالَ مَنْ حَرَّقَ ہَذِہِ قُلْنَا نَحْنُ قَالَ إِنَّہُ لَا يَنْبَغِي أَنْ يُعَذِّبَ بِالنَّارِ إِلَّا رَبُّ النَّارِ

جناب عبدالرحمٰن اپنے والد سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں،انہوں نے کہا کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔آپ ﷺ قضائے حاجت کے لیے گئے،تو ہم نے ایک چڑیا دیکھی جس کے ساتھ دو بچے بھی تھے۔ہم نے اس کے بچے پکڑ لیے تو ان کی ماں اپنے بچوں پر گرنے لگی۔نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور پوچھا: ’’اس کو اس کے بچوں سے کس نے پریشان کیا ہے؟ اس کے بچے اس کو واپس کر دو۔‘‘ اور آپ ﷺ نے دیکھا کہ چیونٹیوں کا ایک بل ہم نے جلا ڈالا ہے۔تو آپ ﷺ نے پوچھا ’’اس کو کس نے جلایا ہے؟‘‘ ہم نے بتایا کہ ہم نے جلایا ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’آگ کے رب (اللہ تعالیٰ) کے سوا کسی کو روا نہیں کہ کسی کو آگ سے عذاب دے۔‘‘