Sunan ibn Majah Hadith 1020 (سنن ابن ماجہ)
[1020] إسنادہ ضعیف
ترمذي (345،2957)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَكِيمٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو الرَّبِيعِ السَّمَّانُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللہِ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ أَبِيہِ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ فِي سَفَرٍ فَتَغَيَّمَتْ السَّمَاءُ وَأَشْكَلَتْ عَلَيْنَا الْقِبْلَةُ فَصَلَّيْنَا وَأَعْلَمْنَا فَلَمَّا طَلَعَتْ الشَّمْسُ إِذَا نَحْنُ قَدْ صَلَّيْنَا لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ ﷺ فَأَنْزَلَ اللہ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْہُ اللہِ)البقرۃ:الآیۃ:115)
سیدنا ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھے کہ آسمان پر بادل چھا گئے اور قبلے کی سمت معلوم نہ ہو سکی۔ہم نے (اندازے سے) نماز پڑھی اور(زمین پر) نشان لگا لیے۔جب سورج طلوع ہوا تو معلوم ہوا کہ ہم نے قبلے کے سوا(کسی اور طرف) نماز پڑھی ہے۔ہم نے نبی ﷺ سے یہ واقعہ بیان کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرما دی:(فاینما تولوا فثم وجہ اللہ) ’’تم جدھر بھی رخ کرو،ادھر ہی اللہ کا چہر ہے۔‘‘