Sunan ibn Majah Hadith 1022 (سنن ابن ماجہ)

[1022]صحیح

صحیح مسلم

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مِہْرَانَ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ رَأَی نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَأَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ فَقَالَ مَا بَالُ أَحَدِكُمْ يَقُومُ مُسْتَقْبِلَہُ يَعْنِي رَبَّہُ فَيَتَنَخَّعُ أَمَامَہُ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يُسْتَقْبَلَ فَيُتَنَخَّعَ فِي وَجْہِہِ إِذَا بَزَقَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْزُقَنَّ عَنْ شِمَالِہِ أَوْ لِيَقُلْ ہَكَذَا فِي ثَوْبِہِ ثُمَّ أَرَانِي إِسْمَعِيلُ يَبْزُقُ فِي ثَوْبِہِ ثُمَّ يَدْلُكُہُ

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو مسجد کی قبلے والی دیوار پر بلغم لگا ہوا نظر آیا۔آپ ﷺ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ’’تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ ایک آدمی رب کی طرف متوجہ ہو کر کھڑا ہوتا ہے،پھر اپنے سامنے بلغم تھوک دیتا ہے؟ کیا تم میں سے کسی کو یہ بات پسند ہے کہ اس کے سامنے آکر اس کے چہرے پر تھوک دیا جائے؟ جب کسی کو تھوکنا ہو تو اپنی بائیں طرف تھوک لے یا اپنے کپڑے میں اس طرح کر لے۔‘‘ (امام ابن ماجہ رحمہ اللہ کے استاد سیدنا ابو بکر بن ابی شیبہ نے فرمایا:) امام اسماعیل ابن علیہ رحمہ اللہ نے(اس حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے مجھے یوں کر کے دکھایا کہ) کپڑے میں تھوکا،پھر کپڑے کو مل دیا۔