Sunan ibn Majah Hadith 1159 (سنن ابن ماجہ)

[1159] إسنادہ ضعیف

یزید بن أبي زیاد: ضعیف مدلس

انوار الصحیفہ ص 419

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ أَرْسَلَ مُعَاوِيَةُ إِلَی أُمِّ سَلَمَةَ فَانْطَلَقْتُ مَعَ الرَّسُولِ فَسَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ بَيْنَمَا ہُوَ يَتَوَضَّأُ فِي بَيْتِي لِلظُّہْرِ وَكَانَ قَدْ بَعَثَ سَاعِيًا وَكَثُرَ عِنْدَہُ الْمُہَاجِرُونَ وَقَدْ أَہَمَّہُ شَأْنُہُمْ إِذْ ضُرِبَ الْبَابُ فَخَرَجَ إِلَيْہِ فَصَلَّی الظُّہْرَ ثُمَّ جَلَسَ يَقْسِمُ مَا جَاءَ بِہِ قَالَتْ فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّی الْعَصْرِ ثُمَّ دَخَلَ مَنْزِلِي فَصَلَّی رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ شَغَلَنِي أَمْرُ السَّاعِي أَنْ أُصَلِّيَہُمَا بَعْدَ الظُّہْرِ فَصَلَّيْتُہُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ

سیدنا عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں کسی کو بھیجا۔میں بھی اس کے ساتھ گیا۔اس نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے زکاۃ وصول کرنے کے لئے ایک آدمی بھیجا تھا اور آپ کے پاس بہت سے مہاجرین جمع ہو گئے تھے (جو زکاۃ و صدقات کے مستحق تھے) اور نبی ﷺ ان کے بارے میں بہت فکر مند تھے۔(انہی ایام میں ایک دن نبی ﷺ میرے گھر میں ظہر کی نماز کے لئے وضو کر رہے تھے) کہ دروازے پر دستک ہوئی۔رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لے گئے۔ظہر کی نماز پڑھانے کے بعد آپ (مسجد میں) بیٹھ کر اس (زکاۃ وصول کرنے والے) کا لایا ہوا(زکاۃ) کا مال (مستحق افراد میں) تقسیم کرنے لگے۔آپ عصر تک اسی کام میں مشغول رہے۔اس کے بعد نبی ﷺ میرے گھر میں تشریف لائے اور دو رکعتیں پڑھیں،پھر فرمایا: ’’میں زکاۃ و صدقات لانے والے کے معاملہ میں مصروف ہونے کی وجہ سے ظہر کے بعد ان دو رکعتوں کو نہیں پڑھ سکا تھا۔اس لئے میں نے عصر کے بعد پڑھ لیں۔‘‘