Sunan ibn Majah Hadith 1269 (سنن ابن ماجہ)
[1269] إسنادہ ضعیف
قال أبو داود (3967): ’’سالم لم یسمع من شرحبیل،مات شرحبیل بصفین‘‘ فالسند منقطع و لبعض الحدیث شواھد صحیحۃ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ أَنَّہُ قَالَ لِكَعْبٍ يَا كَعْبُ بْنَ مُرَّةَ حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللہِ ﷺ وَاحْذَرْ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللہِ اسْتَسْقِ اللہَ فَرَفَعَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يَدَيْہِ فَقَالَ اللہُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مَرِيئًا مَرِيعًا طَبَقًا عَاجِلًا غَيْرَ رَائِثٍ نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ قَالَ فَمَا جَمَّعُوا حَتَّی أُجِيبُوا قَالَ فَأَتَوْہُ فَشَكَوْا إِلَيْہِ الْمَطَرَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللہِ تَہَدَّمَتْ الْبُيُوتُ فَقَالَ اللہُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا قَالَ فَجَعَلَ السَّحَابُ يَنْقَطِعُ يَمِينًا وَشِمَالًا
سیدنا شرحبیل بن سمط رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کعب رضی اللہ عنہ سے کہا: کعب بن مرہ! ہمیں رسول اللہ ﷺ کی حدیث سنایئے اور احتیاط کیجئے۔کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں ھاجر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمارے لیے پانی کی دعا کیجئے۔رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ اٹھا دیے اور فرمایا: (اللہُمَّ اسْقِنَا غَیْثًا مَرِیئًا مَرِیعًا طَبَقًا عَاجِلاً غَیْرَ رَائِثٍ نَافِعًا غَیْرَ ضَارّ)’’اے اللہ! ہم پر بارش نازل فرما جو خوش گوار ہو،(برکات اور رزق میں) اضافہ کر دینے والی ہو،ہر جگہ برسنے والی ہو(جل تھل ایک کر دے) جلدی نازل ہونے والی ہو،تاخیر کرنے والی نہ ہو،فائدےدینے والی ہو نقصان دہ نہ ہو۔‘‘ (اللہ تعالیٰ نے دعا قبول فرمائی) ابھی نماز جمعہ سے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ بارش آگئی۔(بارش مسلسل ہوتی رہی حتی کہ لوگ حاضرخدمت ہوئے اور بارش(کی کثرت) کی شکایت کی،انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! (ہمارے تو) مکان گر گئے ہیں،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:(اللہُمَّ حَوَالَیْنَا وَلاَ عَلَیْنَا) ’’اے اللہ! ہمارے ارد گرد (بارش برسا) ہم پر نہ برسا۔‘‘(فوراً) بادل پھٹ کر دائیں بائیں بکھرنے لگ گیا۔