Sunan ibn Majah Hadith 1270 (سنن ابن ماجہ)
[1270] إسنادہ ضعیف
حبیب بن أبي ثابت: مدلس و عنعن
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْقَاسِمِ أَبُو الْأَحْوَصِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إِدْرِيسَ حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللہِ لَقَدْ جِئْتُكَ مِنْ عِنْدِ قَوْمٍ مَا يَتَزَوَّدُ لَہُمْ رَاعٍ وَلَا يَخْطِرُ لَہُمْ فَحْلٌ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللہَ ثُمَّ قَالَ اللہُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا مَرِيئًا طَبَقًا مَرِيعًا غَدَقًا عَاجِلًا غَيْرَ رَائِثٍ ثُمَّ نَزَلَ فَمَا يَأْتِيہِ أَحَدٌ مِنْ وَجْہٍ مِنْ الْوُجُوہِ إِلَّا قَالُوا قَدْ أُحْيِينَا
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: ایک اعرابی(خانہ بدوش) نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں آپ کے پاس ایسے لوگوں کے پاس سے آیا ہوں جن کا کوئی چرواہا سفر خرچ نہیں لیتا اور کوئی سانڈ دم نہیں ہلاتا۔نبی ﷺ منبر پر تشریف فرما ہوئے۔اللہ کی تعریف کی،پھر فرمایا: (اللہُمَّ اسْقِنَا غَیْثًا مُغِیثًا مَرِیئًا طَبَقًا مَرِیعًا غَدَقًا عَاجِلاً غَیْرَ رَائِثٍ) ’’اے اللہ! ہم پر بارش نازل فرما جس سے ہماری فریاد رسی ہو جائے،خوشگوار ہو،ہر جگہ برسنے والی ہو (رزق میں) اضافہ کرنے والی ہو،بڑے قطروں والی ہو،جلدی نازل ہونے والی ہو،تاخیر کرنے والی نہ ہو۔‘‘ پھر آپ ﷺ منبر سے نیچے تشریف لے آئے(اس کے بعد) جس سمت سے بھی کوئی (مسافر) آیا،اس نے یہی کہا: ہمارے ہاں بارش ہوئی ہے۔