Sunan ibn Majah Hadith 1288 (سنن ابن ماجہ)
[1288]بخاری ومسلم
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللہِ أَخْبَرَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يَخْرُجُ يَوْمَ الْعِيدِ فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ يُسَلِّمُ فَيَقِفُ عَلَی رِجْلَيْہِ فَيَسْتَقْبِلُ النَّاسَ وَہُمْ جُلُوسٌ فَيَقُولُ تَصَدَّقُوا تَصَدَّقُوا فَأَكْثَرُ مَنْ يَتَصَدَّقُ النِّسَاءُ بِالْقُرْطِ وَالْخَاتَمِ وَالشَّيْءِ فَإِنْ كَانَتْ حَاجَةٌ يُرِيدُ أَنْ يَبْعَثَ بَعْثًا يَذْكُرُہُ لَہُمْ وَإِلَّا انْصَرَفَ
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ عید کے دن باہر (عید گاہ میں) تشریف لے جاتے تھے لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھاتے،پھر سلام پھیر کر اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جاتے۔لوگوں کی طرف چہرہٴ مبارک کر لیتے جب کہ لوگ بیٹھے رہتے۔آپ فرماتے: ’’صدقہ کرو،صدقہ کرو۔‘‘ تو زیادہ تر عورتیں صدقہ کرتیں،بالی انگوٹھی اور(اس طرح کی) کوئی چیز(صدقہ میں پیش کرتیں)اگر آپ کوئی لشکر روانہ کرنے کی ضرورت محسوس فرماتے تو یہ بات بھی لوگوں کو بتا دیتے ورنہ (خطبہ ختم کر کے) واپس آجاتے۔