Sunan ibn Majah Hadith 1337 (سنن ابن ماجہ)

[1337] إسنادہ ضعیف

انظر الحدیث الآتي (4196) مختصرًا

قال البو صیري: ’’فیہ أبو رافع واسمہ: إسماعیل بن رافع،ضعیف متروک‘‘

انوار الصحیفہ ص 424

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَشِيرِ بْنِ ذَكْوَانَ الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو رَافِعٍ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ قَدِمَ عَلَيْنَا سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَقَدْ كُفَّ بَصَرُہُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْہِ فَقَالَ مَنْ أَنْتَ فَأَخْبَرْتُہُ فَقَالَ مَرْحَبًا بِابْنِ أَخِي بَلَغَنِي أَنَّكَ حَسَنُ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ إِنَّ ہَذَا الْقُرْآنَ نَزَلَ بِحُزْنٍ فَإِذَا قَرَأْتُمُوہُ فَابْكُوا فَإِنْ لَمْ تَبْكُوا فَتَبَاكَوْا وَتَغَنَّوْا بِہِ فَمَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِہِ فَلَيْسَ مِنَّا

سیدنا عبدالرحمٰن بن سائب رحمہ اللہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ہمارے ہاں تشریف لائے،اس وقت ان کی بینائی ختم ہو چکی تھی۔میں نے سلام کیا تو انہوں نے فرمایا: تم کون ہو؟ میں نے بتایا(کہ عبدالرحمٰن بن سائب ہوں) تو فرمایا: بھتیجے کو خوش آمدید؟ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم قرآن مجید کی تلاوت بڑی عمدہ آواز سے کرتے ہو۔میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ ارشاد مبارک سنا ہے: ’’یہ قرآن غم کے ساتھ نازل ہوا ہے،جب تم اسے پڑھو تو رویا کرو،رونا نہ آئے تو تکلف سے روؤو اور اسے اچھی آواز سے پڑھو۔جو اسے اچھی آواز سے (تجوید کے اصولوں کے مطابق) نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں۔‘‘