Sunan ibn Majah Hadith 1414 (سنن ابن ماجہ)

[1414] إسنادہ ضعیف

ابن عقیل: ضعیف

ولأصل الحدیث شواہد

انوار الصحیفہ ص 427

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الرَّقِّيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللہِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ،عَنِ الطُّفَيْلِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ،عَنْ أَبِيہِ،قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَی جِذْعٍ إِذْ كَانَ الْمَسْجِدُ عَرِيشًا،وَكَانَ يَخْطُبُ إِلَی ذَلِكَ الْجِذْعِ،فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِہِ: ہَلْ لَكَ أَنْ نَجْعَلَ لَكَ شَيْئًا تَقُومُ عَلَيْہِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ حَتَّی يَرَاكَ النَّاسُ وَتُسْمِعَہُمْ خُطْبَتَكَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ)) فَصَنَعَ لَہُ ثَلَاثَ دَرَجَاتٍ،فَہِيَ الَّتِي أَعْلَی الْمِنْبَرِ،فَلَمَّا وُضِعَ الْمِنْبَرُ،وَضَعُوہُ فِي مَوْضِعِہِ الَّذِي ہُوَ فِيہِ،فَلَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقُومَ إِلَی الْمِنْبَرِ،مَرَّ إِلَی الْجِذْعِ الَّذِي كَانَ يَخْطُبُ إِلَيْہِ،فَلَمَّا جَاوَزَ الْجِذْعَ،خَارَ حَتَّی تَصَدَّعَ وَانْشَقَّ،فَنَزَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا سَمِعَ صَوْتَ الْجِذْعِ،فَمَسَحَہُ بِيَدِہِ حَتَّی سَكَنَ،ثُمَّ رَجَعَ إِلَی الْمِنْبَرِ،فَكَانَ إِذَا صَلَّی،صَلَّی إِلَيْہِ،فَلَمَّا ہُدِمَ الْمَسْجِدُ وَغُيِّرَ أَخَذَ ذَلِكَ الْجِذْعَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ،وَكَانَ عِنْدَہُ فِي بَيْتِہِ حَتَّی بَلِيَ،فَأَكَلَتْہُ الْأَرَضَةُ وَعَادَ رُفَاتًا

ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: جب مسجد نبوی ایک چھپر کی صورت میں تھی تو رسول اللہ ﷺ کھجور کے ایک تنے کی طرف (منہ کر کے) نماز پڑھا کرتے تھے اور اسی تنے سے ٹیک لگا کر خطبہ دیتے تھے۔ایک صحابی نے عرض کیا: کیا ہم آپ کے لیے کوئی ایسی چیز نہ بنا دیں جس پر آپ جمعے کے دن (خطبہ دینے کے لیے) کھڑے ہوا کریں تاکہ لوگ آپ کی طرف متوجہ ہو سکیں اور آپ کا خطبہ (اچھی طرح) سن سکیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ہاں۔‘‘ اس نے آپ کے لیے(منبر کے) تین درجے بنا دیے۔وہی(تین سیڑھایاں) اب(موجود) منبر کا سب سے بالائی حصہ ہے۔جب منبر تیار ہوگیا تو صحابہ کرام نے اسے اسی مقام پر رکھا جہاں وہ اب ہے۔جب رسول اللہ ﷺ اٹھ کر منبر پر جانے لگے تو اس تنے کے پاس سے گزرے جس سے ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے۔جب آپ اس سے آگے بڑھے تو وہ زور زور سے رونے لگا حتی کہ (شدتِ غم سے) اس کی آواز پھٹ گئی۔جب رسول اللہ ﷺ نے تنے(کے رونے) کی آواز سنی تو (منبر سے) نیچے تشریف لے آئے،اس(تنے) پر ہاتھ پھیرتے رہے حتی کہ وہ خاموش ہوگیا۔اس کے بعد آپ پھر منبر پر تشریف لے گئے۔آپ جب نماز پڑھتے تھے تو اس کے پیچھے نماز پڑھتے تھے۔جب مسجد نبوی کو(دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے) منہدم کیا گیا اور مسجد کی عمارت میں تبدیلی(اور توسیع) کی گئی تو تنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے لے لیا،وہ ان کے پاس ان کے گھر ہی میں رہا حتی کہ بہت پرانا ہوگیا،پھر اسے دیمک نے کھالیا اور وہ ریزہ ریزہ ہوگیا۔