Sunan ibn Majah Hadith 1426 (سنن ابن ماجہ)
[1426]إسنادہ صحیح
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ،عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي ہِنْدٍ،عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَی،عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ،عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ: أَنْبَأَنَا حُمَيْدٌ،عَنِ الْحَسَنِ،عَنْ رَجُلٍ،عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ،وَدَاوُدُ بْنُ أَبِي ہِنْدٍ،عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَی،عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ،عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِہِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَلَاتُہُ،فَإِنْ أَكْمَلَہَا كُتِبَتْ لَہُ نَافِلَةً،فَإِنْ لَمْ يَكُنْ أَكْمَلَہَا،قَالَ اللہُ سُبْحَانَہُ لِمَلَائِكَتِہِ: انْظُرُوا،ہَلْ تَجِدُونَ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ؟ فَأَكْمِلُوا بِہَا مَا ضَيَّعَ مِنْ فَرِيضَتِہِ،ثُمَّ تُؤْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلَی حَسَبِ ذَلِكَ
تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،نبی ﷺ نے فرمایا: ’’قیامت کے دن بندے سے جس عمل کا سب سے پہلے حساب لیا جائے گا وہ اس کی (فرض) نماز ہے۔اگر اسے پورا ادا کیا ہوگا تو(باقی نمازیں) اس کے لیے نفل لکھ دی جائیں گی۔اگر انہیں پورا نہیں ادا کیا ہوگا تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائے گا: دیکھو،کیا تمہیں میرے بندے کے کوئی نفل ملتے ہیں؟ اس نے اپنے فرائض میں جو کوتاہی کی تھی،وہ ان (نوافل) سے پوری کرو،پھر دوسرے اعمال کا حساب بھی اسی انداز سے ہوگا۔‘‘