Sunan ibn Majah Hadith 1442 (سنن ابن ماجہ)
[1442] إسنادہ ضعیف
سنن أبي داود (3099)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ،عَنِ الْحَكَمِ،عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَی،عَنْ عَلِيٍّ،قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ أَتَی أَخَاہُ الْمُسْلِمَ،عَائِدًا،مَشَی فِي خَرَافَةِ الْجَنَّةِ حَتَّی يَجْلِسَ،فَإِذَا جَلَسَ غَمَرَتْہُ الرَّحْمَةُ،فَإِنْ كَانَ غُدْوَةً،صَلَّی عَلَيْہِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّی يُمْسِيَ،وَإِنْ كَانَ مَسَاءً،صَلَّی عَلَيْہِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّی يُصْبِحَ))
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ نے فرمایا: ’’جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے پاس عیادت کے لیے آتا ہے تو وہ مریض کے پاس آکر بیٹھنے تک جنت کے پھل چنتا آتا ہے۔جب وہ بیٹھ جاتا ہے تو اس پر رحمت سایہ فگن ہو جاتی ہے۔اگر(عیادت) صبح کے وقت ہو تو شام تک ستر ہزار فرشتے اسے دعائیں دیتے رہتے ہیں اور اگر شام کا وقت ہو تو صبح تک ستر ہزار فرشتے اسے دعائیں دیتے رہتے ہیں۔‘‘