Sunan ibn Majah Hadith 1489 (سنن ابن ماجہ)
[1489] إسنادہ ضعیف
بکر بن سلیم ضعیف ضعفہ الجمھور و حدیث مسلم (948) یغني عنہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا إِبْرَاہِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سُلَيْمٍ قَالَ: حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ زِيَادٍ الْخَرَّاطُ،عَنْ شَرِيكٍ،عَنْ كُرَيْبٍ،مَوْلَی عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: ہَلَكَ ابْنٌ لِعَبْدِ اللہِ بْنِ عَبَّاسٍ،فَقَالَ لِي يَا كُرَيْبُ قُمْ فَانْظُرْ ہَلِ اجْتَمَعَ لِابْنِي أَحَدٌ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ،فَقَالَ: وَيْحَكَ كَمْ تَرَاہُمْ؟ أَرْبَعِينَ؟ قُلْتُ: لَا،بَلْ ہُمْ أَكْثَرُ،قَالَ: فَاخْرُجُوا بِابْنِي،فَأَشْہَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَا مِنْ أَرْبَعِينَ مِنْ مُؤْمِنٍ يَشْفَعُونَ لِمُؤْمِنٍ،إِلَّا شَفَّعَہُمُ اللہُ))
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام کریب رحمہ اللہ سے روایت ہے،انہوں نے کہا: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا ایک بیٹا فوٹ ہوگیا۔انہوں نے مجھے فرمایا: کریب! اٹھ کر دیکھو! کیا میرے بیٹے(کا جنازہ پڑھنے) کے لیے کوئی آیا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔فرمایا: تیرا بھلا ہو تیرے خیال میں کتنے افراد ہیں؟ چالیس تو ہوں گے؟ میں نے کہا: نہیں،بلکہ اس سے بھی زیادہ ہیں۔فرمایا: تو میرے بیٹے کو(نماز جنازہ کے لیے) لے چلو۔میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔آپ فرما رہے تھے: ’’جو چالیس مومن کسی مومن کے حق میں دعا کریں اللہ ان کی سفارش قبول فرمالیتا ہے۔‘‘