Sunan ibn Majah Hadith 1511 (سنن ابن ماجہ)

[1511] إسنادہ ضعیف جدًا

أبو شیبۃ إبراہیم بن عثمان: متروک

انوار الصحیفہ ص 432

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ الْبَاہِلِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاہِيمُ بْنُ عُثْمَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ،عَنْ مِقْسَمٍ،عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،قَالَ: لَمَّا مَاتَ إِبْرَاہِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللہِ _ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ _ صَلَّی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،وَقَالَ: ((إِنَّ لَہُ مُرْضِعًا فِي الْجَنَّةِ،وَلَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا،وَلَوْ عَاشَ لَعَتَقَتْ أَخْوَالُہُ الْقِبْطُ،وَمَا اسْتُرِقَّ قِبْطِيٌّ))

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کے فرزند ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے ان کا جنازہ پڑھااور فرمایا: ’’اس کے لیے جنت میں ایک دود پلانے والی مقرر ہے اور اگر وہ زندہ رہتا تو نبی صدیق ہوتا اور اگر وہ زندہ رہتا تو اس کے ماموں قبطی آزاد ہو جاتے،پھر کسی قبطی کو غلام نہ بنایا جاتا۔‘‘