Sunan ibn Majah Hadith 1512 (سنن ابن ماجہ)

[1512] إسنادہ ضعیف جدًا

أبو المقدام ہشام بن زیاد: متروک

وأمہ: لا تعرف (تقریب: 8823)

انوار الصحیفہ ص 432

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ عِمْرَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ أَبِي الْوَلِيدِ،عَنْ أُمِّہِ،عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْحُسَيْنِ،عَنْ أَبِيہَا الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ،قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ الْقَاسِمُ ابْنُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ قَالَتْ خَدِيجَةُ: يَا رَسُولَ اللہِ دَرَّتْ لُبَيْنَةُ الْقَاسِمِ،فَلَوْ كَانَ اللہُ أَبْقَاہُ حَتَّی يَسْتَكْمِلَ رَضَاعَہُ،فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ تَمَامَ رَضَاعِہِ فِي الْجَنَّةِ)) قَالَتْ: لَوْ أَعْلَمُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللہِ لَہَوَّنَ عَلَيَّ أَمْرَہُ،فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ((إِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللہَ تَعَالَی فَأَسْمَعَكِ صَوْتَہُ)) قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللہِ بَلْ أُصَدِّقُ اللہَ وَرَسُولَہُ

حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: جب رسول اللہ ﷺ کے فرزند قاسم رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو خدیجہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اللہ کے رسول! (میری چھاتیوں میں) قاسم کا دودھ بہت اتر آیا ہے،کاش اللہ تعالیٰ اسے اتنی زندگی دیتا کہ دودھ پلانے کی مدت پوری ہو جاتی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اس کی دودھ پینے کی مدت جنت میں پوری ہوگی۔‘‘ ام المومنین نے کہا: اللہ کے رسول! اگر مجھے یہ بات معلوم ہو جائے تو اس پر میرا غم کچھ ہلکا ہو جائے۔اللہ کے رسول(ﷺ) نے فرمایا: ’’اگر تو چاہے تو میں اللہ سے دعا کروں اور وہ تجھے اس کی آواز سنا دے۔‘‘ انہوں نے فرمایا: اللہ کے رسول! میں اللہ اور اس کے رسول کی بات پر یقین رکھتی ہوں۔