Sunan ibn Majah Hadith 1523 (سنن ابن ماجہ)
[1523]بخاری ومسلم
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ،عَنْ عُبَيْدِ اللہِ،عَنْ نَافِعٍ،عَنِ ابْنِ عُمَرَ،قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللہِ بْنُ أُبَيٍّ جَاءَ ابْنُہُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ،أَعْطِنِي قَمِيصَكَ أُكَفِّنْہُ فِيہِ،فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ((آذِنُونِي بِہِ)) فَلَمَّا أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْہِ،قَالَ لَہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: مَا ذَاكَ لَكَ،فَصَلَّی عَلَيْہِ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،فَقَالَ لَہُ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: أَنَا بَيْنَ خِيَرَتَيْنِ: اسْتَغْفِرْ لَہُمْ،أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ فَأَنْزَلَ اللہُ سُبْحَانَہُ: وَلَا تُصَلِّ عَلَی أَحَدٍ مِنْہُمْ مَاتَ أَبَدًا،وَلَا تَقُمْ عَلَی قَبْرِہِ [التوبة: 84] (قال ابو عبداللہ:فی ھذا الحدیث من الفقہ ان القیام علی الفبر بر للحی)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: جب عبداللہ بن اُبی مرا تو اس کے بیٹے نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے اپنی قمیص عنایت فرمایئے،میں اس (قمیص) میں اسے کفناؤں گا تو رسول اللہ ﷺ: ’’مجھے اس (کا جنازہ تیار ہونے) کی اطلاع دینا۔‘‘ جب نبی ﷺ نے اس کا جنازہ پڑھنے کا ارادہ فرمایا تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ آپ کے لائق نہیں۔نبی ﷺ نے فرمایا: مجھے دو چیزوں میں سے ایک کے انتخاب کا اختیار ہے(کیوں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (اسْتَغْفِرْ لَہُمْ أَوْ لاَ تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ)’’آپ ان کے لیے بخشش مانگیں یا نہ مانگیں (برابر ہے۔‘‘۹تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:(وَلاَ تُصَلِّ عَلَی أَحَدٍ مِنْہُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلاَ تَقُمْ عَلَی قَبْرِہِ)’’(اے نبی!) ان میں سے جو مر جائے آپ اس کی نماز(جنازہ) ہرگز نہ پڑھیں اور نہ کبھی اس کی قبر پر کھڑے ہوں۔‘‘ امام ابن ماجہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث سے یہ مسئلہ بھی سمجھ میں آتا ہے کہ کسی زندہ شخص کا قبر پر کھڑے ہونا(اور میت کے لیے دعا کرنا) نیکی ہے۔