Sunan ibn Majah Hadith 1528 (سنن ابن ماجہ)
[1528]إسنادہ صحیح
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا ہُشَيْمٌ قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ،عَنْ يَزِيدَ بْنِ ثَابِتٍ،وَكَانَ أَكْبَرَ مِنْ زَيْدٍ،قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،فَلَمَّا وَرَدَ الْبَقِيعَ فَإِذَا ہُوَ بِقَبْرٍ جَدِيدٍ،فَسَأَلَ عَنْہُ،فَقَالُوا: فُلَانَةُ،قَالَ: فَعَرَفَہَا وَقَالَ ((أَلَا آذَنْتُمُونِي بِہَا)) قَالُوا: كُنْتَ قَائِلًا صَائِمًا،فَكَرِہْنَا أَنْ نُؤْذِيَكَ،قَالَ: ((فَلَا تَفْعَلُوا،لَا أَعْرِفَنَّ مَا مَاتَ مِنْكُمْ مَيِّتٌ مَا كُنْتُ بَيْنَ أَظْہُرِكُمْ إِلَّا آذَنْتُمُونِي بِہِ؛ فَإِنَّ صَلَاتِي عَلَيْہِ لَہُ رَحْمَةٌ)) ثُمَّ أَتَی الْقَبْرَ،فَصَفَفْنَا خَلْفَہُ،فَكَبَّرَ عَلَيْہِ أَرْبَعًا
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بڑے بھائی یزید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ باہر گئے جب آپ ﷺ بقیع (کے قبرستان) میں پہنچے تو آپ کو ایک نئی قبر نظر آئی نبی ﷺ نے اس کے بارے میں دریافت فرمایا۔صحابہ نے کہا: فلاں خاتون ہے(یہ ان کی قبر ہے۔) آپ نے اسے پہچان لیا۔فرمایا: ’’تم نے مجھے اس کی (وفات کی) اطلاع کیوں نہ دی؟‘‘ انہوں نے کہا: آپ دو پہر کو آرام فرما رہے تھے اور آپ روزے سے تھے تو ہمیں یہ بات اچھی نہ لگی کہ آپ کو تکلیف دیں۔آپ نے فرمایا: ’’یوں نہ کیا کرو۔مجھے(تم سے دوبارہ ایسے عمل کی) ہر گز خبر نہ ملے۔جب تک میں تمہارے درمیان (زندہ) موجود ہوں۔تم میں سے جو کوئی بھی فوت ہو،مجھے ضرور اطلاع کیا کرو کیوں کہ میری دعا ان کے لیے رحمت کا باعث ہے۔‘‘ پھر آپ ﷺ قبر پر تشریف لے گئے ہم نے آپ کے پیچھے صف بنالی اور آپ نے اس پر چار تکبیریں کہیں۔