Sunan ibn Majah Hadith 1630 (سنن ابن ماجہ)

[1630]صحیح

صحیح بخاری

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي ثَابِتٌ،عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَتْ لِي فَاطِمَةُ: يَا أَنَسُ كَيْفَ سَخَتْ أَنْفُسُكُمْ أَنْ تَحْثُوا التُّرَابَ عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ؟ وحَدَّثَنَا ثَابِتٌ،عَنْ أَنَسٍ،أَنَّ فَاطِمَةَ،قَالَتْ: حِينَ قُبِضَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،((وَا أَبَتَاہُ،إِلَی جِبْرَائِيلَ أَنْعَاہُ،وَا أَبَتَاہُ،مِنْ رَبِّہِ مَا أَدْنَاہُ،وَا أَبَتَاہُ،جَنَّةُ الْفِرْدَوْسِ مَأْوَاہُ،وَا أَبَتَاہُ أَجَابَ رَبًّا دَعَاہُ)) قَالَ حَمَّادٌ فَرَأَيْتُ ثَابِتًا حِينَ حَدَّثَ بِہَذَا الْحَدِيثِ بَكَی حَتَّی رَأَيْتُ أَضْلَاعَہُ تَخْتَلِفُ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: مجھے فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:انس! تمہارے دلوں نے یہ کیسے گوارا کیا کہ تم اپنے ہاتھوں سے رسول اللہ ﷺ (جسد اطہر) پر مٹی ڈال دو؟ انس رضی اللہ عنہ نے(مزید) فرمایا: جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ہائے ابا جان! جبریل کو آپ کی وفات کی خبر دیتی ہوں۔ہائے ابا جان! آپ کو اپنے رب کا کتنا قرب حاصل ہے۔ہائے ابا جان! جنت الفردوس آپ کا ٹھکانا ہے۔ہائے ابا جان! رب نے آپ کو بلایا اور آپ نے اس کے بلاوے پر لبیک کہہ دیا۔حماد بن زید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے (اپنے استاد اور انس رضی اللہ عنہ کے شاگرد) جناب ثابت رحمہ اللہ کو دیکھا کہ جب انہوں نے یہ حدیث بیان فرمائی تو بہت روئے حتی کہ آپ کی پسلیاں اوپر نیچے ہوتی نظر آتیں۔