Sunan ibn Majah Hadith 1827 (سنن ابن ماجہ)
[1827]إسنادہ حسن
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَشِيرِ بْنِ ذَكْوَانَ،وَأَحْمَدُ بْنُ الْأَزْہَرِ،قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْخَوْلَانِيُّ،عَنْ سَيَّارِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّدَفِيِّ،عَنْ عِكْرِمَةَ،عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،قَالَ: ((فَرَضَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ طُہْرَةً لِلصَّائِمِ مِنَ اللَّغْوِ وَالرَّفَثِ،وَطُعْمَةً لِلْمَسَاكِينِ،فَمَنْ أَدَّاہَا قَبْلَ الصَّلَاةِ فَہِيَ زَكَاةٌ مَقْبُولَةٌ،وَمَنْ أَدَّاہَا بَعْدَ الصَّلَاةِ فَہِيَ صَدَقَةٌ مِنَ الصَّدَقَاتِ))
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے روزے کو لغو اور نا مناسب باتوں (کے گناہ) سے پاک کرنے کے لیے اور مسکینوں کو کھانا کھلانے کے لیے صدقہ فطر مقرر فرمایا۔جس نے نماز (عید) سے پہلے یہ ادا کر دیا،اس کا یہ قبول شدہ صدقہ ہے اور جس نے نماز کے بعد ادا کیاتو وہ تو ایک عام صدقہ ہے (صدقہ فطر نہیں۔)