Sheikh Zubair Alizai

Sunan ibn Majah Hadith 1998 (سنن ابن ماجہ)

[1998]بخاری ومسلم

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عِيسَی بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ،عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ،قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،وَہُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ يَقُولُ: ((إِنَّ بَنِي ہِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ اسْتَأْذَنُونِي أَنْ يُنْكِحُوا ابْنَتَہُمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ،فَلَا آذَنُ لَہُمْ،ثُمَّ لَا آذَنُ لَہُمْ،ثُمَّ لَا آذَنُ لَہُمْ،إِلَّا أَنْ يُرِيدَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَنْ يُطَلِّقَ ابْنَتِي وَيَنْكِحَ ابْنَتَہُمْ،فَإِنَّمَا ہِيَ بَضْعَةٌ مِنِّي،يَرِيبُنِي مَا رَابَہَا،وَيُؤْذِينِي مَا آذَاہَا))

حضرت مسور بن مخرمہ بن نوفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ فرمان سنا جب کہ آپ منبر پر تشریف فرما تھے: ہشام بن مغیرہ کے بیٹوں نے مجھ سے اجازت طلب کی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے کر دیں۔میں انہیں اجازت نہیں دیتا،پھر (کہتا ہوں کہ) میں انہیں اجازت نہیں دیتا،پھر (کہتا ہوں کہ) میں انہیں اجازت نہیں دیتا،ہاں اگر علی (رضی اللہ عنہ) بن ابی طالب یہ پسند کریں کہ میری بیٹی (فاطمہ رضی اللہ عنہا) کو طلاق دے کر ان کی لڑکی سے شادی کر لیں (تو ان کی مرضی ہے۔) فاطمہ (رضی اللہ عنہا) تو میرا ٹکڑا (میرے جسم و جان کا ایک حصہ) ہے۔جس بات سے اسے پریشانی ہوتی ہے اس سے مجھے بھی پریشانی ہوتی ہے۔جس بات سے اسے دکھ پہنچتا ہے،اس سے مجھے بھی دکھ پہنچتا ہے۔