Sheikh Zubair Alizai

Sunan ibn Majah Hadith 1999 (سنن ابن ماجہ)

[1999]بخاری ومسلم

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ،عَنِ الزُّہْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ،أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ،أَخْبَرَہُ،أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَہْلٍ،وَعِنْدَہُ فَاطِمَةُ بِنْتُ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،فَلَمَّا سَمِعَتْ بِذَلِكَ فَاطِمَةُ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،فَقَالَتْ: إِنَّ قَوْمَكَ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّكَ لَا تَغْضَبُ لِبَنَاتِكَ،وَہَذَا عَلِيٌّ نَاكِحًا ابْنَةَ أَبِي جَہْلٍ،قَالَ الْمِسْوَرُ: فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،فَسَمِعْتُہُ حِينَ تَشَہَّدَ،ثُمَّ قَالَ: ((أَمَّا بَعْدُ،فَإِنِّي قَدْ أَنْكَحْتُ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ فَحَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي،وَإِنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ بَضْعَةٌ مِنِّي،وَأَنَا أَكْرَہُ أَنْ تَفْتِنُوہَا،وَإِنَّہَا وَاللہِ لَا تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللہِ وَبِنْتُ عَدُوِّ اللہِ عِنْدَ رَجُلٍ وَاحِدٍ أَبَدًا))،قَالَ: فَنَزَلَ عَلِيٌّ عَنِ الْخِطْبَةِ

حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ابو جہل کی بیٹی کا رشتہ طلب کیا جب کہ نبی ﷺ کی بیٹی حضرت فاطمہ ان کے نکاح میں تھیں۔جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات سنی تو وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا: لوگ باتیں کرتے ہیں کہ آپ کو اپنی بیٹیوں کے متعلق کسی بات پر غصہ نہیں آتا۔یہ (دیکھیے) علی (رضی اللہ عنہ) ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کرنے والے ہیں۔ حضرت مسور رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی ﷺ کھڑے ہوئے،میں نے سنا کہ آپ نے تشہد پڑھا (خطبہ کے افتتاحی کلمات ارشاد فرمائے) پھر فرمایا: اما بعد،میں نے ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کو رشتہ دیا۔انہوں نے مجھ سے (جو بھی) بات کی،سچی بات کی۔اور بے شک محمد (ﷺ) کی بیٹی فاطمہ (رضی اللہ عنہا) میرا ٹکڑا (اور میری لخت جگر) ہے۔مجھے یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ تم اسے آزمائش میں ڈالو۔قسم ہے اللہ کی! اللہ کے رسول کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی کبھی ایک آدمی کے پاس (اس کے نکاح میں) جمع نہیں ہوں گی۔راوی نے بیان کیا: چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اس رشتے سے دست بردار ہو گئے۔