Sheikh Zubair Alizai

Sunan ibn Majah Hadith 2141 (سنن ابن ماجہ)

[2141]إسنادہ صحیح

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ سُلَيْمَانَ،عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ خُبَيْبٍ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ عَمِّہِ،قَالَ: كُنَّا فِي مَجْلِسٍ،فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ وَعَلَی رَأْسِہِ أَثَرُ مَاءٍ،فَقَالَ لَہُ بَعْضُنَا: نَرَاكَ الْيَوْمَ طَيِّبَ النَّفْسِ،فَقَالَ: ((أَجَلْ وَالْحَمْدُ لِلَّہِ)) ثُمَّ أَفَاضَ الْقَوْمُ فِي ذِكْرِ الْغِنَی،فَقَالَ: ((لَا بَأْسَ بِالْغِنَی لِمَنِ اتَّقَی،وَالصِّحَّةُ لِمَنِ اتَّقَی خَيْرٌ مِنَ الْغِنَی،وَطِيبُ النَّفْسِ مِنَ النَّعِيمِ))

حضرت معاذ بن عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد (حضرت عبداللہ بن خبیب رضی اللہ عنہ) سے اور وہ اپنے چچا (حضرت عبید رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ہم لوگ ایک مجلس میں موجود تھے کہ نبی ﷺ تشریف لے آئے۔آپ کے سر مبارک پر پانی کا اثر تھا (غسل فرما کر تشریف لائے تھے۔) بعض لوگوں نے عرض کیا: آج ہم آپ کو خوش دیکھ رہے ہیں۔آپ نے فرمایا: ہاں،اللہ کا شکر ہے۔پھر لوگوں نے خوشحالی (اور دولت مندی) کا ذکر چھیڑا تو آپ نے فرمایا: متقی آدمی کے لیے دولت مند ہونے میں کوئی حرج نہیں۔اور متقی کے لیے صحت دولت سے بہتر ہے۔اور طبیعت خوش ہونا بھی (اللہ) کی نعمت ہے۔