Sunan ibn Majah Hadith 2375 (سنن ابن ماجہ)
[2375]متفق علیہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي ہِنْدٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ انْطَلَقَ بِہِ أَبُوہُ يَحْمِلُہُ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ اشْہَدْ أَنِّي قَدْ نَحَلْتُ النُّعْمَانَ مِنْ مَالِي كَذَا وَكَذَا قَالَ فَكُلَّ بَنِيكَ نَحَلْتَ مِثْلَ الَّذِي نَحَلْتَ النُّعْمَانَ قَالَ لَا قَالَ فَأَشْہِدْ عَلَی ہَذَا غَيْرِي قَالَ أَلَيْسَ يَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا لَكَ فِي الْبِرِّ سَوَاءً قَالَ بَلَی قَالَ فَلَا إِذًا
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے والد (حضرت بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ) انہیں اٹھائے ہوئے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: گواہ رہیں کہ میں نے نعمان کو اپنے مال میں سے فلاں فلاں چیز ہبہ کر دی ہے۔نبی ﷺ نے فرمایا: کیا تم نے اپنے سارے بیٹوں کو ویسی چیز دی ہے جیسی نعمان کو دی ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔آپ نے فرمایا: تو اس (ہبہ) پر میرے سوا کسی اور کو گواہ بنا لو۔پھر فرمایا: کیا تمہیں یہ بات پسند نہیں کہ وہ سب تم سے برابر حسن سلوک کریں؟ بشیر رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں (پسند ہے۔) نبی ﷺ نےفرمایا: تب (اس طرح) نہیں (کرنا چاہیے)۔