Sunan ibn Majah Hadith 2429 (سنن ابن ماجہ)
[2429]متفق علیہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی وَيَحْيَی بْنُ حَكِيمٍ قَالَا حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَنْبَأَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ الزُّہْرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيہِ أَنَّہُ تَقَاضَی ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا لَہُ عَلَيْہِ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّی ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُہُمَا حَتَّی سَمِعَہُمَا رَسُولُ اللہِ ﷺ وَہُوَ فِي بَيْتِہِ فَخَرَجَ إِلَيْہِمَا فَنَادَی كَعْبًا فَقَالَ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللہِ قَالَ دَعْ مِنْ دَيْنِكَ ہَذَا وَأَوْمَأَ بِيَدِہِ إِلَی الشَّطْرِ فَقَالَ قَدْ فَعَلْتُ قَالَ قُمْ فَاقْضِہِ
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے مسجد میں حضرت عبداللہ بن ابو حدرد رضی اللہ عنہ سے ان کے ذمے اپنے قرج کی واپسی کا تقاضا کیا۔ان کی آوازیں بلند ہو گئیں حتی کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے گھر میں ان کی آوازیں سن لیں۔نبی ﷺ باہر نکل کر ان کے پاس تشریف لائے اور حضرت کعب رضی اللہ عنہ کو آواز دی،انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں۔آپ نے فرمایا: اپنے قرض میں سے اتنا معاف کر دو۔اور ہاتھ سے نصف کا اشارہ کیا (آدھا قرض چھوڑ دو۔) انہوں نے کہا: میں نے معاف کیا۔نبی ﷺ نے (ابن ابو حدرد رضی اللہ عنہ سے) فرمایا: اٹھو،اس کا قرض ادا کرو۔