Sunan ibn Majah Hadith 512 (سنن ابن ماجہ)

[512] إسنادہ ضعیف

سنن أبي داود (62) ترمذي (59)

انوار الصحیفہ ص 396

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ عَنْ أَبِي غُطَيْفٍ الْہُذَلِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللہِ بْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي مَجْلِسِہِ فِي الْمَسْجِدِ فَلَمَّا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ قَامَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّی ثُمَّ عَادَ إِلَی مَجْلِسِہِ فَلَمَّا حَضَرَتْ الْعَصْرُ قَامَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّی ثُمَّ عَادَ إِلَی مَجْلِسِہِ فَلَمَّا حَضَرَتْ الْمَغْرِبُ قَامَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّی ثُمَّ عَادَ إِلَی مَجْلِسِہِ فَقُلْتُ أَصْلَحَكَ اللہُ أَفَرِيضَةٌ أَمْ سُنَّةٌ الْوُضُوءُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ قَالَ أَوَ فَطِنْتَ إِلَيَّ وَإِلَی ہَذَا مِنِّي فَقُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ لَا لَوْ تَوَضَّأْتُ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ لَصَلَّيْتُ بِہِ الصَّلَوَاتِ كُلَّہَا مَا لَمْ أُحْدِثْ وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ مَنْ تَوَضَّأَ عَلَی كُلِّ طُہْرٍ فَلَہُ عَشْرُ حَسَنَاتٍ وَإِنَّمَا رَغِبْتُ فِي الْحَسَنَاتِ

جناب ابو غُظَیف ہُذلی رحمہ اللہ سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: میں مسجد میں سیدنا عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما کی مجلس میں ان کے ارشادات سن رہا تھا۔جب نماز کا وقت ہوا تو انہوں نے اٹھ کر وضو کیا اور نماز پڑھی،پھر اپنی جگہ پر آ بیٹھے،پھر جب عصر کی نماز کا وقت ہوا تو آپ نے اٹھ کر وضو کیا،نماز پڑھی،اور پھر اپنی جگہ پر آ بیٹھے۔پھر جب مغرب کی نماز کا وقت ہوا تو آپ نے اٹھ کر وضو کیا،نماز پڑھی،پھر اپنی جگہ تشریف لے آئے۔میں نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ آپ کو سلامت رکھے(یہ ارشاد فرمایئے کہ) ہر نماز کے لئے وضو کرنا فرض ہے یا سنت؟ انہوں نے فرمایا: تم نے میرا یہ عمل محسوس کر لیا؟ میں نے کہا: جی ہاں۔انہوں نے فرمایا: نہیں(یہ فرض نہیں ہے) اگر میں صبح کی نماز کے لئے وضو کروں تو اس کے ساتھ سب نمازیں پڑھ سکتا ہوں جب تک وضو نہ ٹوٹے۔بات یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ مبارک ارشاد سنا ہے: ’’جو شخص پاک (باوضو) ہونے کے باوجود وضو کرتا ہے اس دس نیکیاں ملتی ہیں۔‘‘ اور میں بھی نیکیوں کی رغبت رکھتا ہوں۔‘‘