Sunan ibn Majah Hadith 572 (سنن ابن ماجہ)
[572] إسنادہ ضعیف
سنن أبي داود (336)
السند مرسل: وأما حدیث ابن عباس فصحیح،أخرجہ أبو داود (337)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ حَبِيبِ بْنِ أَبِي الْعِشْرِينِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يُخْبِرُ أَنَّ رَجُلًا أَصَابَہُ جُرْحٌ فِي رَأْسِہِ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ ﷺ ثُمَّ أَصَابَہُ احْتِلَامٌ فَأُمِرَ بِالِاغْتِسَالِ فَاغْتَسَلَ فَكُزَّ فَمَاتَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَ قَتَلُوہُ قَتَلَہُمْ اللہُ أَوَلَمْ يَكُنْ شِفَاءَ الْعِيِّ السُّؤَالُ قَالَ عَطَاءٌ وَبَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ لَوْ غَسَلَ جَسَدَہُ وَتَرَكَ رَأْسَہُ حَيْثُ أَصَابَہُ الْجِرَاحُ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کے زمانے میں ایک آدمی کا سر زخمی ہوگیا۔اس کے بعد(ایک دن) اسے احتلام ہوگیا۔(اس نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مسئلہ پوچھا) تو اسے نہانے کا حکم دیا گیا۔اس نے غسل کیا تو(سردی کی شدت کی وجہ سے) بیمار ہوگیا اور(اسی بیماری سے)فوت ہوگیا۔نبی ﷺ کو اس واقعہ کی اطلاع ہوئی تو فرمایا:’’انہوں نے اسے قتل کر دیا،اللہ انہیں ہلاک کرے۔کیا پوچھ لینا لاعلمی کا علاج نہیں؟‘‘ حضرت عطاء رحمہ اللہ نے فرمایا:ہمیں روایت پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا:’’کاش وہ باقی جسم دھو لیتا اور سر کو رہنے دیتا جہاں اسے زخم تھا۔‘‘