Sunan ibn Majah Hadith 604 (سنن ابن ماجہ)

[604]صحیح

صحیح مسلم

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ بَلَغَ عَائِشَةَ أَنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ عَمْرٍو يَأْمُرُ نِسَاءَہُ إِذَا اغْتَسَلْنَ أَنْ يَنْقُضْنَ رُءُوسَہُنَّ فَقَالَتْ يَا عَجَبًا لِابْنِ عَمْرٍو ہَذَا أَفَلَا يَأْمُرُہُنَّ أَنْ يَحْلِقْنَ رُءُوسَہُنَّ لَقَدْ كُنْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللہِ ﷺ نَغْتَسِلُ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ فَلَا أَزِيدُ عَلَی أَنْ أُفْرِغَ عَلَی رَأْسِي ثَلَاثَ إِفْرَاغَاتٍ

جناب عبید بن عمیر رحمہ اللہ سے روایت ہے،انہوں نے کہا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو معلوم ہوا کہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما اپنی خواتین کو حکم دیتے ہیں کہ جب وہ غسل کریں تو سر(کی مینڈھیاں وغیرہ) کھول لیا کریں۔ام المومنین نے فرمایا: عبداللہ بن عمرو پر تعجب ہے!(کہ وہ عورتوں کو غسل کے لئے بال کھولنے کا حکم دیتے ہیں) وہ انہیں یہ حکم کیوں نہیں دیتے کہ اپنے سرمنڈوایا کریں۔میں اور رسول اللہ ﷺ ایک ہی برتن میں غسل کرتے تھے،میں اور رسول اللہ ﷺ ایک ہی برتن میں غسل کرتے تھے،میں تو اس سے زیادہ نہیں کرتی تھی کہ سر پر تین بار پانی ڈال لیتی تھی۔(نبی ﷺ مجھے بال کھولنے کا حکم نہیں دیتے تھے۔)