Sunan ibn Majah Hadith 622 (سنن ابن ماجہ)

[622] إسنادہ ضعیف

سنن أبي داود (287) ترمذي (128) وانظر الحدیث الآتي (627)

انوار الصحیفہ ص 401

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ إِمْلَاءً عَلَيَّ مِنْ كِتَابِہِ وَكَانَ السَّائِلُ غَيْرِي أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ إِبْرَاہِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ جَحْشٍ قَالَتْ كُنْتُ أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً كَثِيرَةً طَوِيلَةً قَالَتْ فَجِئْتُ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ أَسْتَفْتِيہِ وَأُخْبِرُہُ قَالَتْ فَوَجَدْتُہُ عِنْدَ أُخْتِي زَيْنَبَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللہِ إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً قَالَ وَمَا ہِيَ أَيْ ہَنْتَاہُ قُلْتُ إِنِّي أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً طَوِيلَةً كَبِيرَةً وَقَدْ مَنَعَتْنِي الصَّلَاةَ وَالصَّوْمَ فَمَا تَأْمُرُنِي فِيہَا قَالَ أَنْعَتُ لَكِ الْكُرْسُفَ فَإِنَّہُ يُذْہِبُ الدَّمَ قُلْتُ ہُوَ أَكْثَرُ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ شَرِيكٍ

سیدہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: مجھے طویل عرصے تک بکثرت استحاضہ آتا رہا تھا۔میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تاکہ آپ کو(اپنی کیفیت) بتاکر مسئلہ معلوم کروں۔مجھے اپنی بہن زینب رضی اللہ عنہا کے گھر رسول اللہ ﷺ مل گئے۔میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے آپ سے ایک کام ہے۔آپ نے فرمایا: ’’اے خاتون! کیا کام ہے؟‘‘ میں نے کہا: مجھے طویل عرصے تک بکثرت استحاضہ آتا رہتا ہے جس کی وجہ سے میں نماز روزہ ادا نہیں کر سکتی،تو آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’میں تیرے لئے روئی تجویز کرتا ہوں،کیوں کہ وہ خون کو جزب کر لیتی ہے‘‘۔میں نے کہا: وہ تو اس سے زیادہ ہے۔۔۔اس کے بعد راوی نے پوری حدیث شریک کی حدیث کی مثل بیان کی۔