Sunan ibn Majah Hadith 623 (سنن ابن ماجہ)
[623] إسنادہ ضعیف
وانظر ضعیف سنن أبي داود (276) سلیمان بن یسار سمعہ من رجل مجھول (د 275)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ سَأَلَتْ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ ﷺ قَالَتْ إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْہُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ قَالَ لَا وَلَكِنْ دَعِي قَدْرَ الْأَيَّامِ وَاللَّيَالِي الَّتِي كُنْتِ تَحِيضِينَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي حَدِيثِہِ وَقَدْرَہُنَّ مِنْ الشَّہْرِ ثُمَّ اغْتَسِلِي وَاسْتَثْفِرِي بِثَوْبٍ وَصَلِّي
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے،انہوں نے کہا: ایک عورت نے نبی ﷺ سے سوال کیا،اس نے کہا: مجھے استحاضہ آتا ہے تو میں پاک ہی نہیں ہوتی۔تو کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’نہیں جتنے دن رات تجھے(بیماری شرو ع ہونے سے پہلے ہر ماہ) حیض آیا کرتا تھا اتنے عصہ تک(نماز) چھوڑ دیا کر۔‘‘ ابو بکر(بن ابو شیبہ) کی ایک روایت میں یوں ہے:’’اس مقدار کے مطابق مہینے میں سے،اس کے بعد غسل کر لے اور لنگوٹ باندھ لے پھر نماز پڑھ لے۔