Sunan ibn Majah Hadith 671 (سنن ابن ماجہ)

[671]إسنادہ صحیح

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاہِيمَ الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنَا نَہِيكُ بْنُ يَرِيمَ الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنَا مُغِيثُ بْنُ سُمَيٍّ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ عَبْدِ اللہِ بْنِ الزُّبَيْرِ الصُّبْحَ بِغَلَسٍ فَلَمَّا سَلَّمَ أَقْبَلْتُ عَلَی ابْنِ عُمَرَ فَقُلْتُ مَا ہَذِہِ الصَّلَاةُ قَالَ ہَذِہِ صَلَاتُنَا كَانَتْ مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فَلَمَّا طُعِنَ عُمَرُ أَسْفَرَ بِہَا عُثْمَانُ

جناب مغیث بن سُمَیّ رحمہ اللہ سے روایت ہے،انہوں نے کہا: میں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ فجر کی نماز اندھیرے میں ادا کی،جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں نےسیدنا عبداللہ بن عمر و رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہو کر کہا: یہ کیا نماز ہے؟(اتنی سویرے نماز پڑھا دی؟)انہوں نے فرمایا: ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اور ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ یہی نماز(اسی وقت) پڑھتے تھے۔پھر جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو زخمی کیا گیا(ان پر قاتلانہ حملہ کیا گیا) تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ روشنی ہونے پر نماز پڑھانے لگے۔