Sunan ibn Majah Hadith 879 (سنن ابن ماجہ)

[879] إسنادہ ضعیف

قال البوصیري: ’’ھذا إسناد ضعیف،أبو عمر لا یعرف حالہ‘‘

انوار الصحیفہ ص 409

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مُوسَی السُّدِّيُّ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ يَقُولُ ذُكِرَتْ الْجُدُودُ عِنْدَ رَسُولِ اللہِ ﷺ وَہُوَ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ رَجُلٌ جَدُّ فُلَانٍ فِي الْخَيْلِ وَقَالَ آخَرُ جَدُّ فُلَانٍ فِي الْإِبِلِ وَقَالَ آخَرُ جَدُّ فُلَانٍ فِي الْغَنَمِ وَقَالَ آخَرُ جَدُّ فُلَانٍ فِي الرَّقِيقِ فَلَمَّا قَضَی رَسُولُ اللہِ ﷺ صَلَاتَہُ وَرَفَعَ رَأْسَہُ مِنْ آخِرِ الرَّكْعَةِ قَالَ اللہُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ اللہُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ وَطَوَّلَ رَسُولُ اللہِ ﷺ صَوْتَہُ بِالْجَدِّ لِيَعْلَمُوا أَنَّہُ لَيْسَ كَمَا يَقُولُونَ

سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے۔(اس اثنا میں) آپ کے پاس (دنیوی) خوش قسمتی (اور مال و دولت) کا ذکر کیا گیا۔ایک نے کہا: فلاں گھوڑوں کے لحاظ سے بڑا خوش نصیب ہے۔(بہت سے گھوڑے اس کی دولت ہیں) دوسرے نے کہا: فلاں کی خوش قسمتی اونٹوں سے ہے۔ایک اور بولا: فلاں کی اچھی قسمت بکریوں سے ہے۔ایک اور بولا: فلاں لونڈی غلاموں کے لحاظ سے بڑا خوش بخش ہے۔جب رسول اللہ نے نماز مکمل کی،اور آخری رکعت میں رکوع سے سر اٹھایا تو فرمایا: (اللہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَیْءٍ بَعْدُ،اللہُمَّ لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَیْتَ وَلاَ مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلاَ یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ) ’’اے اللہ! اے ہمارےرب! تیرے ہی لئے(سب) تعریف ہے۔آسمانوں بھر،زمین بھر اور اس کے بعد جو چیز تو چاہے،اس کے بھرنے کے برابر۔اے اللہ! جو کچھ تو عنایت فرمائے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو کچھ تو روک لے(اور نہ دینا چاہے) وہ چیز کوئی دے نہیں سکتا اور کسی(دنیوی) قسمت(اورمال و دولت)والے کی(ظاہری) خوش قسمتی(اور دولت) اسے تجھ سے(بچانے میں) کام نہیں آسکتی۔‘‘ رسول اللہ ﷺ نے (آخری جملہ فرماتے وقت آواز کو طول دیا کہ ان (صحابہ کو معلوم ہو جائے کہ حقیقت وہ نہیں جو وہ لوگ کہہ رہے ہیں۔