Sunan ibn Majah Hadith 981 (سنن ابن ماجہ)
[981] إسنادہ ضعیف
قال البوصیري: ’’ھذا إسناد ضعیف۔عبدالحمید (بن سلیمان) اتفقوا علی تضعیفہ‘‘ وھو: ضعیف
ولبعض الحدیث شواھد
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ،أَخُو فُلَيْحٍ،قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ،قَالَ كَانَ سَہْلُ بْنُ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ يُقَدِّمُ فِتْيَانَ قَوْمِہِ،يُصَلُّونَ بِہِمْ،فَقِيلَ لَہُ: تَفْعَلُ وَلَكَ مِنَ الْقِدَمِ مَا لَكَ،قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((الْإِمَامُ ضَامِنٌ،فَإِنْ أَحْسَنَ فَلَہُ وَلَہُمْ،وَإِنْ أَسَاءَ،يَعْنِي،فَعَلَيْہِ،وَلَا عَلَيْہِمْ))
سیدنا ابو حازم رحمہ اللہ سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ اپنے قبیلے کے نو جوانوں کو آگے بڑھاتے تھے کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ان سے عرض کیا گیا،آپ ایسا کیوں کرتے ہیں حالانکہ آپ کو قویم الاسلام صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے؟ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے،آپ نے فرمایا: ’’امام ذمے دار ہے۔اگر اچھے طریقے سے نماز پڑھائے تو اسے بھی ثواب ہوگا اور مقتدیوں کو بھی ثواب ہوگا،اور اگر اس نے غلطی کی تو وہ گناہ گار ہو گا،مقتدی گناہ گار نہیں ہوں گے۔‘‘