Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1021 (مشکوۃ المصابیح)
[1021] رواہ مسلم (101/ 574)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ: أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ صَلَّی الْعَصْرَ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ ثُمَّ دَخَلَ مَنْزِلَہُ فَقَامَ إِلَيْہِ رَجُلٌ يُقَالُ لَہُ الْخِرْبَاقُ وَكَانَ فِي يَدَيْہِ طُولٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ فَذَكَرَ لَہُ صَنِيعہ فَخرج غَضْبَانَ يَجُرُّ رِدَاءَہُ حَتَّی انْتَہَی إِلَی النَّاسِ فَقَالَ: ((أَصَدَقَ ہَذَا؟)) . قَالُوا: نَعَمْ. فَصَلَّی رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ. رَوَاہُ مُسلم
عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز عصر پڑھائی اور تین رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا،پھر آپ اپنے گھر تشریف لے گئے تو خرباق نامی شخص جس کے ہاتھ لمبے تھے،آپ کے گھر کے راستے میں کھڑا ہو کر عرض کرنے لگا،اللہ کے رسول! پھر اس نے آپ سے تین رکعتوں کے بعد سلام پھیر دینے کے متعلق ذکر کیا،تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصہ کی حالت میں اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے باہر تشریف لائے حتیٰ کہ لوگوں کے پاس آ کر فرمایا:’’کیا یہ صحیح کہہ رہا ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں! چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رکعت اور پڑھی،پھر سلام پھیرا،پھر دو سجدے کیے اور پھر سلام پھیرا۔رواہ مسلم۔