Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1066 (مشکوۃ المصابیح)
[1066] صحیح، رواہ أبو داود (554) والنسائي (2/ 104، 105 ح 844) [وابن ماجہ (790) و صححہ ابن خزیمۃ (1477) و ابن حبان (429) و للحدیث شواھد وھو بھا صحیح۔ ]
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللہِ ﷺ يَوْمًا الصُّبْحَ فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: ((أَشَاہِدٌ فُلَانٌ؟)) قَالُوا: لَا. قَالَ: ((أَشَاہِدٌ فُلَانٌ؟)) قَالُوا: لَا. قَالَ: ((إِنَّ ہَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ أَثْقَلُ الصَّلَوَاتِ عَلَی الْمُنَافِقِينَ وَلَو تعلمُونَ مَا فيہمَا لأتيتموہما وَلَوْ حَبْوًا عَلَی الرُّكَبِ وَإِنَّ الصَّفَّ الْأَوَّلَ عَلَی مِثْلِ صَفِّ الْمَلَائِكَةِ وَلَوْ عَلِمْتُمْ مَا فضيلتہ لابتدرتموہ وَإِن صَلَاة الرجل من الرَّجُلِ أَزْكَی مِنْ صَلَاتِہِ وَحْدَہُ وَصَلَاتَہُ مَعَ الرَّجُلَيْنِ أَزْكَی مِنْ صَلَاتِہِ مَعَ الرَّجُلِ وَمَا كَثُرَ فَہُوَ أَحَبُّ إِلَی اللہِ)) . رَوَاہُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
ابی بن کعب ؓ بیان کرتے ہیں،ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نماز فجر پڑھائی،جب سلام پھیرا تو فرمایا:’’کیا فلاں شخص موجود ہے؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا،نہیں،پھر پوچھا:’’کیا فلاں شخص موجود ہے؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا: نہیں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’یہ دونوں نمازیں منافقوں پر بہت بھاری ہیں،اگر تم جان لو کہ ان میں کتنا اجر و ثواب ہے تو پھر خواہ تمہیں گھٹنوں کے بل آنا پڑتا تم ضرور آتے اور بے شک پہلی صف (اجر و فضیلت کے لحاظ سے) فرشتوں کی صف کی طرح ہے،اور اگر تمہیں اس کی فضیلت کا علم ہو جائے تو تم اس کی طرف ضرور سبقت کرو،بے شک آدمی کا دوسرے آدمی کے ساتھ نماز پڑھنا،اس کے اکیلے نماز پڑھنے سے بہتر ہے،اور اس کا دو آدمیوں کے ساتھ نماز پڑھنا،اس کے ایک آدمی کے ساتھ نماز پڑھنے سے بہتر ہے،اور جس قدر زیادہ ہو تو وہ اللہ کو زیادہ محبوب ہیں۔‘‘ صحیح،رواہ ابوداؤد و النسائی۔