Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1070 (مشکوۃ المصابیح)

[1070] حسن، رواہ أبو داود (90) و الترمذي (357 وقال: حسن) [و لہ شواھد۔ ]

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ثَلَاثٌ لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَفْعَلَہُنَّ: لَا يَؤُمَّنَّ رَجُلٌ قَوْمًا فَيَخُصَّ نَفْسَہُ بِالدُّعَاءِ دُونَہُمْ فَإِنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ خَانَہُمْ. وَلَا يَنْظُرْ فِي قَعْرِ بَيْتٍ قَبْلَ أَنْ يَسْتَأْذِنَ فَإِنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ خَانَہُمْ وَلَا يُصَلِّ وَہُوَ حَقِنٌ حَتَّی يَتَخَفَّفَ . رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ وللترمذي نَحوہ

ثوبان ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’تین کام ایسے ہیں جن کا کرنا کسی کے لیے حلال نہیں،کوئی شخص جو مقتدیوں کو چھوڑ کر صرف اپنی ذات کے لیے دعا کرتا ہو وہ ان کی امامت نہ کرائے،اگر وہ ایسے کرے گا تو وہ ان سے خیانت کرے گا،کوئی شخص اجازت طلب کرنے سے پہلے کسی گھر میں نہ جھانکے،اگر اس نے ایسے کیا،تو اس نے ان سے خیانت کی،اور کوئی شخص بول و براز روک کر نماز نہ پڑھے حتیٰ کہ وہ (اس سے فارغ ہو کر) ہلکا ہو جائے۔‘‘ ابوداؤد اور ترمذی کی روایت بھی اسی طرح ہے۔حسن،رواہ ابوداؤد و الترمذی۔