Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1112 (مشکوۃ المصابیح)
[1112] إسنادہ ضعیف، رواہ أبو داود (598) ٭ فیہ رجل: مجھول، و أبو خالد: مثلہ۔
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ: أَنَّہُ أَمَّ النَّاسَ بِالْمَدَائِنِ وَقَامَ عَلَی دُكَّانٍ يُصَلِّي وَالنَّاسُ أَسْفَلَ مِنْہُ فَتَقَدَّمَ حُذَيْفَةُ فَأَخَذَ عَلَی يَدَيْہِ فَاتَّبَعَہُ عَمَّارٌ حَتَّی أَنْزَلَہُ حُذَيْفَةُ فَلَمَّا فَرَغَ عَمَّارٌ مِنْ صَلَاتِہِ قَالَ لَہُ حُذَيْفَةُ: أَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ: ((إِذَا أَمَّ الرَّجُلُ الْقَوْمَ فَلَا يَقُمْ فِي مَقَامٍ أَرْفَعَ مِنْ مَقَامِہِمْ أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ؟)) فَقَالَ عَمَّارٌ: لِذَلِكَ اتَّبَعْتُكَ حِينَ أَخَذْتَ عَلَی يَدي. رَوَاہُ أَبُو دَاوُد
عمار ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے مدائن میں لوگوں کو امامت کرائی تو وہ جبوترے پر کھڑے ہوئے جبکہ لوگ ان سے نیچے کھڑے تھے،حذیفہ ؓ نے آگے بڑھ کر انہیں ہاتھوں سے پکڑ لیا تو عمار ؓ ان کے پیچھے پیچھے چلتے گئے حتیٰ کہ حذیفہ ؓ نے انہیں نیچے اتار دیا،جب عمار ؓ نماز سے فارغ ہوئے تو حذیفہ ؓ نے انہیں فرمایا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے نہیں سنا؟‘‘ جب آدمی لوگوں کی امامت کرائے تو وہ ان سے بلند جگہ پر کھڑا نہ ہو۔‘‘ یا آپ نے اس طرح کی بات فرمائی،تو عمار ؓ نے فرمایا: اسی لیے تو میں آپ کے پکڑنے پر آپ کے پیچھے چل دیا تھا۔ضعیف۔