Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1113 (مشکوۃ المصابیح)

[1113] متفق علیہ، رواہ البخاري (917) و مسلم (544)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّہُ سُئِلَ: مِنْ أَيِّ شَيْءٍ الْمِنْبَرُ؟ فَقَالَ: ہُوَ مِنْ أَثْلِ الْغَابَةِ عَمِلَہُ فُلَانٌ مَوْلَی فُلَانَةَ لِرَسُولِ اللہِ ﷺ وَقَامَ عَلَيْہِ رَسُولُ اللہِ ﷺ حِينَ عُمِلَ وَوُضِعَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَكَبَّرَ وَقَامَ النَّاسُ خَلْفَہُ فَقَرَأَ وَرَكَعَ وَرَكَعَ النَّاسُ خَلْفَہُ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ ثُمَّ رَجَعَ الْقَہْقَرَی فَسَجَدَ عَلَی الْأَرْضِ ثُمَّ عَادَ إِلَی الْمِنْبَرِ ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ ثُمَّ رَجَعَ الْقَہْقَرِي حَتَّی سجد بِالْأَرْضِ. ہَذَا لفظ البُخَارِيّ وَفِي الْمُتَّفَقِ عَلَيْہِ نَحْوُہُ وَقَالَ فِي آخِرِہِ: فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ فَقَالَ: ((أَيُّہَا النَّاسُ إِنَّمَا صَنَعْتُ ہَذَا لِتَأْتَمُّوا بِي وَلِتَعْلَمُوا صَلَاتي))

سہل بن سعد ساعدی ؓ سے روایت ہے کہ ان سے دریافت کیا گیا کہ منبر کس چیز سے بنایا گیا تھا؟ تو انہوں نے فرمایا: غابہ کے جھاؤ سے بنا ہوا تھا اور فلاں عورت (عائشہ ؓ) کے آزاد کردہ غلام نے اسے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے بنایا تھا۔جب اسے بنا کر رکھ دیا گیا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس پر قبلہ رخ کھڑے ہو کر اللہ اکبر کہا،اور لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے،آپ نے قراءت کی،رکوع کیا اور لوگوں نے بھی آپ کے پیچھے رکوع کیا،پھر آپ نے سر اٹھایا،پھر الٹے پاؤں واپس آئے اور زمین پر سجدہ کیا،پھر منبر پر تشریف لائے،پھر قراءت کی،پھر رکوع کیا پھر سر اٹھایا،پھر الٹے پاؤں واپس آئے حتیٰ کہ زمین پر سجدہ کیا۔یہ صحیح بخاری کے الفاظ ہیں،جبکہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت بھی اسی طرح ہے،اور اس روایت کے آخر میں ہے: جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا:’’لوگو! میں نے یہ اس لیے کیا ہے تاکہ تم میری اقتدا کرو اور تم میری نماز سیکھ لو۔‘‘ متفق علیہ۔