Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1120 (مشکوۃ المصابیح)
[1120] حسن، رواہ أبو داود (596) و الترمذي (356 وقال: حسن صحیح) والنسائي (80/2 ح 788)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ أَبِي عَطِيَّةَ الْعُقَيْلِيِّ قَالَ: كَانَ مَالِكُ بن الْحُوَيْرِث يَأْتِينَا إِلَی مُصَلَّانَا يَتَحَدَّثُ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ يَوْمًا قَالَ أَبُو عَطِيَّةَ: فَقُلْنَا لَہُ: تَقَدَّمَ فَصْلُہُ. قَالَ لَنَا قَدِّمُوا رَجُلًا مِنْكُمْ يُصَلِّي بِكُمْ وَسَأُحَدِّثُكُمْ لِمَ لَا أُصَلِّي بِكُمْ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ: ((مَنْ زار قوما فَلَا يؤمہم وليؤمہم رجل مِنْہُم)) . رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ إِلَّا أَنَّہُ اقْتَصَرَ عَلَی لَفْظِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسلم
ابوعطیہ عقیلی بیان کرتے ہیں،مالک بن حویرث ؓ ہماری نماز کی جگہ پر ہمارے پاس تشریف لایا کرتے اور باتیں کیا کرتے تھے،ایک روز نماز کا وقت ہو گیا،ابوعطیہ نے کہا،ہم نے ان سے درخواست کی کہ وہ آگے بڑھیں اور نماز پڑھائیں،انہوں نے ہمیں فرمایا: اپنے کسی آدمی کو آگے کرو وہ تمہیں نماز پڑھائے گا:’’میں عنقریب تمہیں بتاؤں گا کہ میں تمہیں نماز کیوں نہیں پڑھاتا،میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:’’جو شخص کسی قوم کے پاس جائے تو وہ ان کی امامت نہ کرائے بلکہ انہی میں سے کوئی شخص ان کی امامت کرائے۔‘‘ ابوداؤد،ترمذی،نسائی،البتہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے الفاظ تک اکتفا کیا ہے۔حسن۔