Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1132 (مشکوۃ المصابیح)

[1132] متفق علیہ، رواہ البخاري (702) و مسلم (182 / 466)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو مَسْعُودٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: وَاللہِ يَا رَسُولَ اللہِ إِنِّي لَأَتَأَخَّرُ عَنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ مِنْ أَجْلِ فُلَانٍ مِمَّا يُطِيلُ بِنَا فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ فِي مَوْعِظَةٍ أَشَدَّ غَضَبًا مِنْہُ يَوْمَئِذٍ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ فَأَيُّكُمْ مَا صَلَّی بِالنَّاسِ فَلْيَتَجَوَّزْ: فَإِنَّ فِيہِمُ الضَّعِيفَ وَالْكَبِير وَذَا الْحَاجة

قیس بن ابی حازم ؓ بیان کرتے ہیں،ابومسعود ؓ نے مجھے بتایا کہ ایک آدمی نے عرض کیا،اللہ کے رسول صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم! اللہ کی قسم! میں فلاں شخص کی وجہ سے نماز فجر دیر سے پڑھتا ہوں،کیونکہ وہ ہمیں بہت لمبی نماز پڑھاتا ہے،چنانچہ میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو وعظ نصیحت کرتے وقت اس دن سے زیادہ ناراض کبھی نہیں دیکھا،پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’بے شک تم میں کچھ نفرت دلانے والے بھی ہیں،پس تم میں سے جو شخص لوگوں کو نماز پڑھائے تو وہ اختصار سے کام لے کیونکہ ان میں ضعیف،بوڑھے اور حاجت مند بھی ہوتے ہیں۔‘‘ متفق علیہ۔