Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1139 (مشکوۃ المصابیح)
[1139] متفق علیہ، رواہ البخاري (689) و مسلم (77/ 411) ٭ الحمیدي ھذا ھو عبد اللہ بن الزبیر: شیخ البخاري و فی القول بنسخ ھذا الحدیث نظر لأن الجمع ممکن۔
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ رَكِبَ فَرَسًا فَصُرِعَ عَنْہُ فَجُحِشَ شِقُّہُ الْأَيْمَنُ فَصَلَّی صَلَاةً مِنَ الصَّلَوَاتِ وَہُوَ قَاعِدٌ فَصَلَّيْنَا وَرَاءَہُ قُعُودًا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ((إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِہِ فَإِذَا صَلَّی قَائِما فصلوا قيَاما فَإِذا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُ فَقُولُوا رَبنَا وَلَك الْحَمد وَإِذا صلی قَائِما فصلوا قيَاما وَإِذَا صَلَّی جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ)) قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: قَوْلُہُ: ((إِذَا صَلَّی جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا)) ہُوَ فِي مَرَضِہِ الْقَدِيمِ ثُمَّ صَلَّی بَعْدَ ذَلِكَ النَّبِيُّ ﷺ جَالِسًا وَالنَّاسُ خَلْفَہُ قِيَامٌ لَمْ يَأْمُرْہُمْ بِالْقُعُودِ وَإِنَّمَا يُؤْخَذُ بِالْآخِرِ فَالْآخِرِ مِنْ فِعْلِ النَّبِيِّ ﷺ. ہَذَا لَفْظُ الْبُخَارِيِّ. وَاتَّفَقَ مُسْلِمٌ إِلَی أَجْمَعُونَ. وَزَادَ فِي رِوَايَةٍ: ((فَلَا تختلفوا عَلَيْہِ وَإِذا سجد فاسجدوا))
انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھوڑے پر سوار ہوئے تو آپ اس سے گر گئے،جس سے آپ کی دائیں جانب خراشیں آ گئیں،تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی ایک نماز بیٹھ کر پڑھائی،تو ہم نے بھی آپ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی،جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا:’’امام اسی لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے جب وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو،جب رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو،جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ،جب وہ ((سمع اللہ لمن حمدہ)) کہے تو تم ((ربنا لک الحمد)) کہو،اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بیٹھ کر نماز پڑھو۔‘‘ حمیدی ؒ کہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان،آپ کے مرض قدیم کے وقت کا ہے،پھر اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھائی تو صحابہ نے آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھی،آپ نے انہیں بیٹھنے کا حکم نہیں فرمایا،اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آخری فعل بطور حجت لیا جاتا ہے،یہ صحیح بخاری کے الفاظ ہیں،اور امام مسلم نے ((اجمعون)) تک اتفاق کیا ہے،اور ایک روایت میں اضافہ نقل کیا ہے:’’اس سے اختلاف نہ کرو،اور جب وہ سجدہ کرے تو تم سجدہ کرو۔‘‘ متفق علیہ۔