Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1140 (مشکوۃ المصابیح)
[1140] متفق علیہ، رواہ البخاري (687) و مسلم (90/ 418)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَن عَائِشَة قَالَتْ: لَمَّا ثَقُلَ رَسُولَ اللہِ ﷺ جَاءَ بِلَال يوذنہ لصَلَاة فَقَالَ: ((مُرُوا أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ)) فَصَلَّی أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الْأَيَّامَ ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ ﷺ وَجَدَ فِي نَفْسِہِ خِفَّةً فَقَامَ يُہَادَی بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَرِجْلَاہُ يخطان فِي الْأَرْضِ حَتَّی دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَلَمَّا سَمِعَ أَبُو بكر حسہ ذہب أخر فَأَوْمَأَ إِلَيْہِ رَسُولُ اللہِ ﷺ أَن لَا يتَأَخَّر فجَاء حَتَّی يجلس عَن يسَار أبي بكر فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي قَائِمًا وَكَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يُصَلِّي قَاعِدًا يَقْتَدِي أَبُو بَكْرٍ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللہِ ﷺ وَالنَّاسُ مقتدون بِصَلَاة أبي بكر وَفِي رِوَايَةٍ لَہُمَا: يُسْمِعُ أَبُو بَكْرٍ النَّاسَ التَّكْبِير
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں،جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمار ہوئے تو بلال ؓ آپ کو نماز کی اطلاع کرنے آئے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’ابوبکر ؓ کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں،چنانچہ ابوبکر ؓ نے ان ایام میں نماز پڑھائی،پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ افاقہ محسوس کیا تو آپ کو دو آدمیوں کے سہارے لایا گیا اس حال میں آپ کے پاؤں زمین پر لگ رہے تھے،حتیٰ کہ آپ مسجد میں داخل ہوئے،جب ابوبکر ؓ نے آپ کی آمد محسوس کی تو وہ پیچھے ہٹنے لگے،لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اشارہ فرمایا کہ پیچھے نہ ہٹیں،آپ تشریف لائے اور ابوبکر ؓ کی بائیں جانب بیٹھ گئے،ابوبکر ؓ کھڑے ہو کر نماز پڑھا رہے تھے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ کر،ابوبکر ؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کی اقتدا کر رہے تھے جبکہ لوگ ابوبکر ؓ کی نماز کی اقتدا کر رہے تھے۔بخاری،مسلم،ان دونوں کی ایک روایت میں ہے،ابوبکر ؓ لوگوں کو تکبیر سناتے تھے۔متفق علیہ۔